Al-Risala · December 2013 · page 15

کتابت حدیث کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۵

ہمام: أحسبه قال متعمدآ، فليتبوأ مقعده من النار (صحيح مسلم، رقم الحديث:

5326) یعنی ابو سعید الخدری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ سے نہ لکھو (قرآن کے سوا)، اور جس نے لکھا مجھ سے قرآن کے سوا، وہ اُس کو مٹا دے۔ اور میری باتوں (حدیثوں) کو بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا، راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹ باندھا، تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔

امام نووی نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے : إنما نهى عن كتابة الحديث مع القرآن في صحيفة واحدة، لئلا يختلط فيشتبه على القاري في صحيفة واحدة (صحيح مسلم بشرح النووي، جلد 18، صفحہ (130) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتابتِ حدیث سے منع فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک ہی صحیفہ میں قرآن کے ساتھ حدیث کو لکھنے سے منع فرمایا، تاکہ دونوں مل نہ جائیں اور ایک صحیفہ میں ہونے کی وجہ سے قاری کو اشتباہ نہ پیش آئے۔

اس تشریح سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کتابتِ حدیث کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت مطلق معنوں میں نہ تھی ۔ وہ صرف اس معنی میں تھی کہ قرآن اور حدیث دونوں کو ایک ہی کاغذ یا ایک ہی صحیفہ میں ساتھ ساتھ نہ لکھو۔ کیوں کہ اس صورت میں یہ اندیشہ تھا کہ قاری کو اشتباہ پیش آجائے اور وہ قرآن اور حدیث دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہ دیکھ سکے۔ گویا کہ یہ ممانعت مشروط تھی، نہ کہ مطلق۔ یہ دراصل احتیاط کا ایک معاملہ تھا۔ کیوں کہ پچھلے اہل کتاب کے یہاں ایسا ہو چکا تھا کہ اُن کے علما اپنے پیغمبر کی بات کو وحی کے ساتھ ملا کر لکھ دیتے تھے۔ اس طرح اُن کے یہاں ایسا ہوا کہ خدا کا کلام اپنی اصل صورت میں محفوظ نہ رہا، بلکہ وہ انسانی کلام کے ساتھ مختلط ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ حکم دراصل اسی پس منظر میں تھا۔

چناں چہ صحابہ نے ایک ہی کاغذ یا ایک ہی صحیفہ پر قرآن اور حدیث دونوں کو ایک ساتھ لکھنا بند کر دیا ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں کو وہ علاحدہ کاغذ یا صحیفہ میں بدستور لکھتے رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page