قولی تواتر، عملی تواتر
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۶
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ متعدد صحابہ نے الگ صحیفوں میں حدیثیں لکھ کر جمع کی تھیں۔ امام نووی نے اپنی شرح میں، صحابہ کے متعدد صحیفہ احادیث کا ذکر کیا ہے۔ یہ صحیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لکھے گئے تھے جو منتخب احادیث پر مشتمل تھے۔ ان میں سے ایک صحیفہ وہ ہے جو علی بن ابی طالب نے تیار کیا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ کے حسب ذیل قول سے بھی یہ ثبوت ملتا ہے کہ رسول اللہ کے زمانے میں صحابہ حدیث کی کتابت کرتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ عبد اللہ بن عمرو بن العاص حدیث لکھتے تھے، جب کہ میں نہیں لکھتا تھا: أن عبد الله بن عمر و كان يكتب، ولا أكتب (شرح النووی، جلد 18 ، صفحه: 130)
اس معاملے میں ہمام بن منبہ (وفات: 749 کا حوالہ بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہمام بن منبہ ایک تابعی ہیں۔ انھوں نے صحابی رسول، حضرت ابو ہریرہ (وفات : 678ء) کی صحبت اختیار کی اور اُن سے حدیثیں لے کر صحیفہ کی صورت میں لکھتے رہے۔ امام احمد بن حنبل (وفات: 855ء) کی مسند (جلد 2، صفحات : 319- 212) میں یہ صحیفہ مکمل طور پر موجود ہے۔ صحیفہ ہمام بن منبہ مخطوطہ کی صورت میں بعض کتب خانوں میں موجود تھا۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ (وفات: 2002) نے اس کو ایڈٹ کر کے شائع کر دیا ہے۔ اس صحیفہ میں 140 روایتیں ہیں۔
قولی تواتر، عملی تواتر
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنت کے دو حصے ہیں— قولی تواتر، اور عملی تواتر۔ قولی تواتر سے مراد پیغمبر اسلام کی سنت کا وہ حصہ ہے جو لفظی روایت کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے۔ اس لفظی روایت میں چوں کہ راویوں کا نسل در نسل تسلسل پایا جاتا ہے، اس لیے اس کو قولی تواتر کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں، سنت کا جو حصہ عمل سے تعلق رکھتا ہے، وہ بھی راویوں کے مسلسل عمل کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، اس لیے اُس کو عملی تواتر کہا جاتا ہے۔
قولی تواتر کو جاننے کا ذریعہ کیا ہے، یہ ذریعہ حدیث کی کتابیں ہیں۔ محدثین جو کہ زیادہ تر تابعین کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے، انھوں نے یہ کیا کہ جو روایتیں صحابہ اور تابعین کے ذریعے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues