Al-Risala · December 2013 · page 17

قولی تواتر، عملی تواتر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۷

چلی آ رہی تھیں، اُن کو جمع کیا، پھر اُن کو چھانٹ کر مستند روایتوں اور غیر مستند روایتوں کو الگ کیا اور پھر مستند روایتوں کو راویوں کے نام کی تصریح کے ساتھ حدیث کی کتابوں میں قلم بند کر دیا۔ حدیث کی یہ کتابیں پہلے ہاتھ سے لکھے ہوئے قلمی نسخوں (manuscripts) کی صورت میں تھیں، اب وہ چھپ کر عمومی طور پر ہر ایک کے لیے قابل حصول ہو گئی ہیں۔

عملی تواتر کو جاننے کا ذریعہ کیا ہے، عملی تواتر کو جاننے کے دو ذرائع ہیں—حدیث کی کتابیں، اور اسلامی ادارے (Islamic institutions)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا کہ ایک طرف آپ نے قولی طور پر نماز کا حکم بتایا اور دوسری طرف، آپ نے فرمایا: صَلُّوا كَما رَأَيْتُمُونِي أصلي (صحيح الجامع للألباني، رقم الحديث: 893) یعنی جس طرح تم نے مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، اُسی طرح تم نماز پڑھو۔ پڑھو۔ اِسی طرح آپ نے قولی طور پر حج کا حکم بتایا اور اسی کے ساتھ آپ نے فرمایا: خُذُوا عَنِّي مناسککم (مسند أحمد، رقم الحديث: 3548) یعنی جس طرح تم نے مجھ کو حج کرتے ہوئے دیکھا، اُسی طرح تم حج ادا کرو۔

دین کو جاننے کا یہ دو طرفہ طریقہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پایا جاتا تھا، وہی دو طرفہ طریقہ بعد کو بھی مسلسل طور پر جاری رہا، یعنی احکام دین کو قولی اعتبار سے، حدیث کی کتابوں کے ذریعہ جاننا، اور احکام دین کے عملی پہلو کو قائم شدہ اداروں (established institutions) کے ذریعے جاننا۔ مثلاً نماز کا قولی حکم حدیث میں تواتر کی صورت میں موجود ہے، اور اس کی عملی صورت مساجد میں قائم شدہ نماز با جماعت کی صورت میں۔ اس طرح مسجد کا ادارہ نماز کے عملی تواتر کو بتانے کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح رمضان کے مہینے میں روزے کا حکم حدیث میں تواتر کی صورت میں موجود ہے۔ امت کا اجتماعی طور پر روزہ رکھنا، روزے کے حق میں عملی تواتر کا درجہ رکھتا ہے۔ اسی طرح حج کا حکم قولی طور پر حدیث میں موجود ہے اور ہر سال ذی الحجہ کے مہینے میں لاکھوں مسلمان مکہ میں جمع ہو کر مناسک حج ادا کرتے ہیں۔ یہ حج کے عملی تواتر کو جاننے کا ذریعہ ہے، وغیرہ۔ واضح ہو کہ جہاں تک اثبات حکم کا تعلق ہے، اس کا اصل ذریعہ قول ہے، یعنی کوئی چیز جب تک

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page