Al-Risala · December 2013 · page 18

قولی تواتر، عملی تواتر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۸

قول کے ذریعے ثابت نہ ہو، اس کو حکم شرعی کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ کوئی حکم جب قول کے ذریعے ثابت ہو جائے تو اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اس کی عملی صورت کیا ہے۔ دینی احکام کے معاملے میں عملی تواتر کی حیثیت یہی ہے۔ اس معاملے میں برعکس صورت اختیار نہیں کی جاسکتی، یعنی پہلے عمل کو حکم شرعی کا درجہ دیا جائے اور پھر اس کے بعد اس کی تائید کے لیے قول تلاش کیا جائے۔ قرآن اور سنت متواترہ قرآن اور سنت متواترہ کی حیثیت کیا ہے، اس کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1997) نے اپنی تفسیر تدبر قرآن کے مقدمے میں بجاطور پر لکھا ہے کہ: ”قرآن مجید اور شریعت کی اصطلاحات (صلوة، زکوة، صوم، حج، عمرہ، قربانی، مسجد حرام، صفا، مروہ، سعی، طواف، وغیرہ) کا مفہوم بیان کرنے کا حق صرف صاحب وحی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ہے۔ آپ جس طرح اس کتاب کے لانے والے تھے، اسی طرح آپ اس کے معلم اور مبین بھی تھے۔ اور یہ تعلیم و تبیین آپ کے فریضۂ رسالت ہی کا ایک حصہ تھی۔ اب سوال صرف یہ رہ جاتا ہے کہ یہ بات قطعیت کے ساتھ کس طرح معلوم ہو کہ فلاں اصطلاح کا یہ مطلب خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے۔ سو جہاں تک معروف دینی اصطلاحات کا تعلق ہے، یہ سوال کچھ زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ اس قسم کی ساری اصطلاحات کا حقیقی مفہوم بالکل عملی شکل میں سنت متواترہ کے اندر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ اور یہ سنت متواترہ بعینہ اُنہی قطعی ذرائع سے ثابت ہے جن سے قرآن مجید ثابت ہے۔ اُمّت کے جس تواتر نے قرآن کریم کو ہم تک منتقل کیا ہے، اُسی تواتر نے دین کی تمام اصطلاحات کا عملی مفہوم بھی ہم تک منتقل کیا ہے۔ اگر فرق ہے تو صرف یہ فرق ہے کہ ایک چیز قولی تواتر سے منتقل ہوئی ہے اور دوسری چیز عملی تواتر سے۔ اس وجہ سے اگر قرآن مجید کو ماننا ہم پر واجب ہے تو ان ساری اصطلاحات کی اُس عملی صورت کو ماننا بھی واجب ہے جو سلف سے خلف تک بالتواتر منتقل ہوئی ہے۔ ان کی صورت میں اگر کوئی جزئی قسم کا اختلاف ہے تو اس اختلاف کی دین میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page