Al-Risala · December 2013 · page 19

قولی تواتر، عملی تواتر

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۱۹

پانچ وقت کی نمازیں سب جانتے ہیں اور مانتے ہیں اور اُسی قطعیت کے ساتھ جانتے اور مانتے ہیں جس قطعیت کے ساتھ وہ قرآن کو جانتے اور مانتے ہیں۔ رہا بعض جزئی امور میں کوئی فرق تو یہ فرق کوئی اہمیت رکھنے والی شے نہیں ہے۔ اس طرح کے معاملات میں دلائل کی روشنی میں جس پہلو پر بھی جس کا اطمینان ہو، اس کو اختیار کر سکتا ہے۔ منکرین حدیث کی یہ جسارت کہ وہ صوم و صلوٰۃ، حج وزکوٰۃ اور عمرہ و قربانی کا مفہوم بھی اپنے جی سے بیان کرتے ہیں اور امت کے تواتر نے ان کی جو شکل ہم تک منتقل کی ہے، اس میں اپنی ہوائے نفس کے مطابق، ترمیم و تغیر کرنا چاہتے ہیں، صریحاً خود قرآن مجید کے انکار کے مترادف ہے۔ اس لیے کہ جس تواتر نے ہم تک قرآن کو منتقل کیا ہے، اُسی تواتر نے ان اصطلاحات کی عملی صورتوں کو بھی ہم تک منتقل کیا ہے۔ اگر وہ ان کو نہیں مانتے تو پھر خود قرآن کو ماننے کے لیے بھی کوئی وجہ باقی نہیں رہ جاتی۔

اصطلاحات کے معاملے میں تنہا لغت پر اعتماد بالکل ایک غلط چیز ہے۔ صوم و صلوٰۃ کا لغت میں جو مفہوم بھی ہو، لیکن دین میں ان کا وہی مفہوم معتبر ہوگا جو شارع نے واضح فرمایا ہے۔ ان دینی اصطلاحات کے بارے میں مولا نا فراہی اپنے مقدمہ تفسیر میں فرماتے ہیں: ’’اُسی طرح تمام اصطلاحات شرعیہ مثلاً نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، مسجد حرام، صفا، مروہ اور مناسک حج وغیرہ اور ان سے جو اعمال متعلق ہیں، تواتر و توارث کے ساتھ سلف سے لے کر خلف تک سب محفوظ رہے۔ اس میں جو معمولی جزئی اختلافات ہیں، وہ بالکل نا قابلِ لحاظ ہیں ... جو نماز مطلوب ہے، وہ وہی نماز ہے جو مسلمان پڑھتے ہیں۔ ہر چند کہ اس کی صورت و ہیئت میں بعض جزئی اختلافات ہیں۔ جو لوگ اس قسم کی چیزوں میں زیادہ کھوج کرید کرتے ہیں، وہ اُس دین قیم کے مزاج سے بالکل ہی نا آشنا ہیں جس کی تعلیم قرآن مجید نے دی ہے..... پس جب ایسے اصطلاحی الفاظ کا معاملہ پیش آئے، جن کی پوری حد و تصویر قرآن میں نہ بیان ہوئی ہو، تو صحیح راہ یہ ہے کہ جتنے حصے پر تمام امت متفق ہے، اتنے پر قناعت کرو...... ورنہ خود بھی شک میں پڑو گے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page