قرآن اور حدیث
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۰
اور دوسروں کے اعمال کو بھی غلط ٹھہراؤ گے اور تمھارے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہوگی جو اس جھگڑے کا فیصلہ کر سکے۔ “ (صفحہ:13)
قرآن اور حدیث
دینِ اسلام کے دو ماخذ (sources) ہیں— قرآن اور حدیث۔ قرآن، خدا کا کلام ہے اور حدیث، رسول خدا کا کلام۔ قرآن وحی پر مبنی ہے اور حدیث، الہام (inspiration) پر مبنی۔ دونوں ہی مستند ہیں، اس فرق کے ساتھ کہ ایک لفظی ہے اور دوسرا معنوی۔ قرآن ڈائرکٹ طور پر خدا کا کلام (word of God) ہے، اور حدیث انڈائرکٹ طور پر خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر کا کلام ہے۔ علما عام طور پر، قرآن کو وحی متلو کہتے ہیں، اور حدیث کو وحی غیر متلو۔ قرآن اور حدیث میں ظاہری نسبت کے اعتبار سے فرق ہے، لیکن استناد (authenticity) کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ قرآن ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں اتارا گیا۔ یہ زمانہ پرنٹنگ پریس کے وجود میں آنے سے پہلے کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں کلام کو محفوظ کرنے کا اصل ذریعہ حافظہ (memory) ہوا کرتا تھا۔ کثرتِ استعمال کی بنا پر اس زمانے کے لوگوں کا حافظہ عام طور پر بہت زیادہ قوی ہوتا تھا، نہ صرف عربوں کا بلکہ ساری دنیا کا۔ اس زمانے کے جو کلام مختلف زبانوں میں آج ہمارے کتب خانوں میں موجود ہیں۔ مثلاً عرب کے اشعار کا مجموعہ (جمہرۃ أشعار العرب) اور قدیم عرب کے خطبے (جمہرۃ خطب العرب) کے مجموعے جو آج مطبوعہ شکل میں پائے جاتے ہیں، وہ ابتدا ء انسانی حافظے میں تھے اور پھر بعد کو انھیں لکھا گیا۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ قدیم زمانے میں کلام کی حفاظت کا اصل ذریعہ انسانی حافظہ ہوا کرتا تھا۔ اور کتابت (writing) کی حیثیت اضافی (additional) ہوتی تھی۔ اس قدیم رواج کے مطابق، قرآن اور حدیث دونوں کی حفاظت (preservation) کا عام ذریعہ یکساں طور پر انسانی حافظہ تھا۔ قوی الحافظہ ہونے کی بنا پر ایسا ہوتا تھا کہ چاہے قرن کی آیات ہوں یا رسول خدا کا کلام، دونوں سنتے ہی لوگوں کے حافظے میں پوری طرح محفوظ ہوجاتے تھے۔ یہ حفاظت اتنی زیادہ قوی تھی کہ قدیم زمانے میں لوگوں کو ان پر حفاظت کے نقطۂ نظرسے کبھی شبہ نہیں ہوا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues