قرآن اور حدیث
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۱
قرآن میں یہ حکم تھا کہ رسول سے جو کچھ تم کو ملے، تم اس کی پیروی کرو اور جس سے رسول تم کو روکے، اُس سے تم رک جاؤ (59:7)۔ اس بنا پر لوگوں نے قرآن کی حفاظت کا جس طرح اہتمام کیا، ٹھیک اُسی طرح انھوں نے کلام رسول کی حفاظت کا بھی اہتمام کیا۔ وہ جس طرح قرآن کی آیتوں کو دوسروں کو سناتے تھے، اِسی طرح وہ دوسروں سے برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کا بھی چرچا کرتے تھے۔ یہ چرچانہ صرف دعوت اور تربیت کے لئے اہم تھا، بلکہ اس تکرار کی بنا پر وہ لوگوں کی یادداشت میں برابر پختہ ہوتا رہتا تھا۔
قدیم زمانے کی کتب سماوی جو بعد کو محفوظ نہیں رہیں، اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ وہ لکھی نہیں گئیں۔ قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ کو لکھی ہوئی تختیاں (7:145) دی گئی تھیں۔ پچھلی کتب سماوی کے محفوظ نہ ہونے کا سبب اصلاً یہ تھا کہ پیغمبر کے بعد ان کی حفاظت کے لئے مضبوط ٹیم موجود نہ رہی، جو نسل در نسل اس کی حفاظت کی ضامن ہوتی۔
دورِ اول میں قرآن اور حدیث دونوں کی حفاظت کا یکساں طور پر اہتمام کیا گیا۔ حدیث کے بارے میں یہ ہوا کہ شروع میں آپ نے حدیث کو لکھنے سے منع فرما دیا (لا تكتبوا عني غير القرآن) لیکن بعد کو آپ نے لوگوں سے یہ کہا کہ تم حدیث کو بھی لکھا کرو (قيدوا العلم بالكتابة)۔ جہاں تک قرآن کا تعلق ہے، اس کے بارے میں شروع سے حافظہ کے علاوہ، کتابت کا اہتمام کیا گیا۔ یہ قرآن کی حفاظت کے لئے ایک اضافی (additional) انتظام تھا، ورنہ قرآن بیش تر صحابہ کو یاد تھا اور وہ اس کو برابر مختلف صورتوں میں دہراتے رہتے تھے۔ مثلاً نماز میں اور دعوت کے موقع پر، وغیرہ۔ حفظِ قرآن کی یہ روایت بعد کو بھی تحفیظ القرآن کے مدرسوں کی صورت میں جاری رہی اور اب تک جاری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دورِ اول میں قرآن اور حدیث دونوں کی حفاظت کا اہتمام یکساں طور پر کیا گیا۔ دونوں کے درمیان فرق حفاظت (preservation) کا نہیں تھا، بلکہ وہ طریقِ حفاظت (method of preservation) کا فرق تھا۔ حدیث کو لکھنے کا کام خود دورِ اول میں شروع ہو چکا تھا۔ مختلف صحابہ نے اپنے اپنے حالات کے اعتبار سے کچھ حدیثیں لکھی تھیں۔ ان میں سے حدیث کا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues