اسوۂ حسنہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۲
ایک بڑا مجموعہ وہ ہے جو صحیفہ ابن ابی ہمام کے نام سے مشہور ہے۔ ابو ہمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ، ابو ہریرہ کے شاگرد تھے۔ انھوں نے براہ راست طور پر ابو ہریرہ سے حدیثیں سنیں، ان کو کاغذ پر لکھا۔ ان کا صحیفہ اب بھی برلن اور دمشق کے کتب خانے میں موجود ہے۔ یہ تحریری صحیفہ اس بات کا ایک یقینی ثبوت ہے کہ حدیثیں لکھ کر محفوظ کی گئی تھیں۔
بعد کے زمانے میں قصاص (story tellers) نے بہت سی حدیثیں وضع کیں اور ان کو عوام میں پھیلا دیا۔ یہ کام زیادہ تر عباسی خلافت کے زمانے میں ہوا۔ مگر اسی زمانے میں محدثین اور علما کی بڑی تعداد اٹھی۔ اس نے طویل سفر کر کے تمام احادیث رسول کو اکٹھا۔ انھوں نے رجال حدیث پر باقاعدہ کتا بیں لکھیں اور خالص علمی اعتبار سے حدیث کا باقاعدہ فن بنایا اور پھر تمام حدیثوں کو چھانٹ کر مستند حدیثوں کو غیر مستند روایتوں سے الگ کر دیا۔ یہ کام خالص علمی سطح پر انجام پایا۔ مشہور محدث محمد ناصر الدین الالبانی نے دوبارہ تمام حدیثوں کا از سر نو جائزہ لیا۔ یہ بلا تشبیہ اسی قسم کا ایک کام تھا جیسا کہ خلیفہ اول کے زمانے میں زید بن ثابت الانصاری نے کیا تھا۔ انھوں نے اُس زمانے میں قرآن کے تمام لکھے ہوئے اجزا کا از سر نو جائزہ لیا، اور پھر وہ مجموعۂ قرآن مرتب کیا جو مصحف عثمانی کے نام سے مشہور ہے۔ اسی طرح محدث الالبانی نے تمام حدیثوں کا جائزہ لے کر دوبارہ مستند اور غیر مستند حدیثوں کو الگ کر دیا۔ اس کام میں انھوں نے اپنی تقریباً پوری عمر صرف کر دی۔
اسوۂ حسنہ
قرآن کی سورہ الاحزاب میں یہ آیت آئی ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (33:21)۔ اس آیت میں اُسوہ کے معنی ماڈل (model) کے ہیں۔ قرآن کی اس آیت سے حدیث کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حدیث، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ریکارڈ ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کا نقشہ حیات (life style) کیا تھا۔ حدیث یا نقشہ حیات کے ریکارڈ کا کام اس لیے ممکن ہوسکا کہ پیغمبر اسلام کے ساتھ قابل لحاظ تعداد میں ایک مضبوط ٹیم جمع ہوگئی۔ انھوں نے پیغمبر کے شب و روز کو دیکھا اور اس کو بعد کی نسلوں تک محفوظ طور پر پہنچایا۔ اصحاب رسول کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues