Al-Risala · December 2013 · page 23

اسوۂ حسنہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۳

یہ ٹیم اگر موجود نہ ہوتی تو پیغمبر اور بعد کی نسلوں کے درمیان ایک بعد (gap) پیدا ہو جاتا اور بعد کے لوگوں کے لیے یہ معلوم کرنا ممکن نہ ہوتا کہ پیغمبر اسلام کا نقشہ حیات کیا تھا۔ حدیث سادہ طور پر صرف احکام کو معلوم کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ حدیث کا ذخیرہ ہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا نقشہ حیات کیا تھا۔ اسی کا نام ماڈل ہے۔ حدیث کو الگ کرنے کے بعد یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا کہ پیغمبر اسلام کا ماڈل کیا تھا۔ قرآن سے دین کی صرف آئیڈیالوجی معلوم ہوتی ہے، قرآن سے دین کا ماڈل معلوم کرنا ممکن نہیں۔ ماڈل کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ ماڈل کے بغیر اسلام کو اپنی عملی زندگی میں اختیار کرنا ممکن نہیں۔ سیرت رسول کا ماڈل اگر موجود نہ ہو تو صرف قرآن کافی نہیں ہوسکتا۔ ماڈل کے بغیر قرآن صرف ایک مجرد نظریہ (abstract ideology) بن جائے گا۔ لوگ اس کو پڑھیں گے ،لیکن قرآن کے مطابق، اپنی عملی زندگی کی تشکیل ناممکن ہو جائے گی۔

اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجئے۔ قرآن میں بار بار یہ آیا ہے کہ اللہ کا ذکر کثیر (33:40) کرو۔ لیکن قرآن سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ذکر کثیر (اللہ کو زیادہ یاد کرنا) کی عملی صورت کیا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کو گنتی کے معنی میں لیا اور اس کا نصاب بنایا، یعنی اتنے ہزار بار اللہ اللہ کرنا یا اتنے لاکھ بار اللہ اللہ کرنا۔ لیکن ذکر کثیر کا یہ مطلب نہیں۔ ذکر کثیر کا حقیقی مطلب حسب ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ کہتی ہیں کہ: كان النبي صلي الله عليه وسلم يذكر الله على كل أحيانه - اس روایت میں'حین، کا لفظ موقع (occasion) کے معنی میں ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع کو یا ہر تجربہ اور ہر مشاہدہ کو پوائنٹ آف ریفرنس(point of reference) بنا کر اس کے حوالے سے اللہ کو یاد کرتے تھے۔ مثلاً چڑیا کو ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھ کر اللہ کے تخلیقی کمال کو یاد کرنا، وغیرہ۔ پیغمبر کے فرائض پیغمبر کے فرائض کو قرآن میں چار مختلف عنوانات کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ قرآن کی یہ آیت

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page