Al-Risala · December 2013 · page 24

اسوۂ حسنہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۴

معمولی لفظی فرق کے ساتھ چار مرتبہ آئی ہے۔ وہ آیت یہ ہے: هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ (62:2) یعنی وہی اللہ ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول انھیں میں سے اٹھایا۔ یہ رسول اُن کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں پیغمبر کے چار کام بتائے گئے ہیں ۔ تلاوت آیات، تعلیم کتاب، تزکیہ، تعلیم حکمت ۔ خدا کا نبی ہونے کی حیثیت سے پیغمبر کی جو ذمے داریاں ہیں، اُن سب کو ان چار عنوانات کے تحت بیان کر دیا گیا ہے۔ ان کا مطالعہ کر کے پیغمبر کے پورے مشن کو سمجھا جا سکتا ہے۔ 1۔ پیغمبر کا پہلا کام تلاوت آیات ہے، یعنی وحی کے ذریعے ملے ہوئے کلام الہی کو بے کم و کاست لوگوں تک پہنچانا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام پوری طرح انجام دیا اور آج وہ قرآن کی صورت میں ایک محفوظ کتاب کے طور پر ہمارے پاس موجود ہے۔

2۔ پیغمبر کا دوسرا کام تعلیم کتاب ہے۔ تعلیم کتاب سے مراد تفسیر کتاب ہے، یعنی قرآن کی آیتوں کی شرح کرنا۔ اس شرح کی دو صورتیں ہیں۔ ایک، یہ کہ آیت کے مفہوم کی نظری وضاحت۔ دوسرے، یہ کہ آیت میں جو تعلیم دی گئی ہے، اس پر عمل کر کے اس کا مستند عملی نمونہ قائم کرنا۔ 3۔ پیغمبر کا تیسرا کام تزکیہ ہے۔ تزکیہ سے مراد دینی بنیاد پر افراد کی شخصیت کی تعمیر ہے۔ یہ کام پیغمبر نے روز مرہ کی صحبت کے ذریعے انجام دیا۔ پیغمبر نے تزکیہ کے اصول بھی بتائے اور واقعات کے حوالے سے اس کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا۔ حدیث رسول یا سنت رسول اسی پیغمبرانہ عمل کا ریکارڈ ہے۔

4۔ پیغمبر کا چوتھا کام حکمت کی تعلیم ہے۔ حکمت سے مراد بصیرت (wisdom) ہے۔ یہ کام بھی پیغمبر نے روزمرہ کی صحبتوں کے درمیان انجام دیا۔ پیغمبر نے لوگوں کو بتایا کہ دینی زندگی یا دعوتی عمل کو انجام دینے کے لیے بصیرت کا تقاضا کیا ہے، وہ کون سی حکمت ہے جس کو اختیار کر کے ایک مومن اپنے فرائض کو کامیابی کے ساتھ انجام دے سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page