Al-Risala · December 2013 · page 25

انکار حدیث کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۵

انکار حدیث کا مسئلہ

امت کی بعد کی نسلوں میں فطری طور پر بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ یہ ایک قانونِ فطرت ہے، اس میں کوئی استثنا نہیں۔ اس معاملے میں اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ امت کی بعد کی نسلوں میں بگاڑ پیدا ہوا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بگاڑ کے وقت اصلاح کا صحیح اسلوب اختیار کیا گیا یا غلط اسلوب۔ بگاڑ کے وقت جو مصلحین یا مجددین اٹھتے ہیں، وہ اگر غلط اسلوب اختیار کریں تو خواہ اُن کی نیت درست ہو، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ بگاڑ میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ انکار حدیث کا ظاہر ہ اسی غلطی کا ایک نتیجہ ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے امتِ مسلمہ کو جس دین پر چھوڑا تھا، وہ امت کی پہلی نسل اور دوسری نسل (صحابہ اور تابعین) کے زمانے میں بڑی حد تک اپنی ابتدائی حالت پر باقی رہا۔ لیکن امت کی تیسری نسل میں واضح طور پر بگاڑ آ گیا۔ اصل دین سے انحراف کی صورتیں نمایاں طور پر دکھائی دینے لگیں۔ اُس وقت مصلحین اور مجددین کو فطری طور پر تشویش پیدا ہوئی۔ وہ کوشش کرنے لگے کہ امت کو دوبارہ اُس دین پر قائم کریں جو پیغمبر اسلام نے اپنے قول و عمل کے ذریعہ پیش فرمایا تھا۔ اب اصلاح کے لیے ممکن طور پر دو اسلوب تھے۔ ایک، روایتی اسلوب اور دوسرا، عقلی اسلوب۔ روایتی اسلوب کا مطلب یہ تھا کہ لوگوں کے اعتقادی مسلمہ کی بنیاد پر انھیں اصلاح کے لیے آمادہ کیا جائے ۔ دوسرا اسلوب یہ تھا کہ لوگوں کو ان کے عقلی مسلمہ کی بنیاد پر اصلاح کے لیے آمادہ کیا جائے ۔ پہلے اسلوب کو مبنی بر روایت (tradition-based) اسلوب کہہ سکتے ہیں۔ اور دوسرے اسلوب کو مبنی بر عقل (reason-based) اسلوب کہا جا سکتا ہے۔

اس معاملے میں مبنی بر عقل اسلوب ہی درست اسلوب تھا۔ یہ وہی اسلوب تھا جس کو قرآن میں بار بار اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن بار بار انسان کی عقل کو خطاب کرتا ہے۔ عقل کو خطاب کرنے کا مطلب ہے انسان کے اپنے مسلمہ پر اس کے ذہن کو ایڈریس کرنا۔ یہ اسلوب مؤثر بھی ہے اور اس کے ذریعے کوئی نئی خرابی پیدا نہیں ہوتی۔ یہی وہ اسلوب تھا جس کے ذریعے سے اصحابِ رسول کا گروہ وجود میں آیا، یعنی امت کی پہلی نسل ۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page