انکار حدیث کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۶
لیکن قدیم دور کے مصلحین، خاص طور پر عباسی دور کے مصلحین نے یہ غلطی کی کہ انھوں نے عقلی اسلوب کو اختیار نہیں کیا، بلکہ روایتی اسلوب کو بڑے پیمانے پر اختیار کر لیا۔ غالباً اس لیے کہ اُس وقت بگاڑ کے باوجود پیغمبر کو امت کے اندر ایک مسلمہ شخصیت کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی۔ اور یہ امید کی جاسکتی تھی کہ پیغمبر کے حوالے سے جو بات کہی جائے گی، وہ امت کے افراد کے لیے لازمی طور پر قابلِ قبول ہوگی۔ یہ سوچ اصولاً درست تھی، لیکن عملی طورپر ابتدا ہی میں اس کے دو گروہ بن گئے۔ ایک، محدثین کا گروہ ۔ اور دوسرا واضعینِ حدیث کا گروہ۔ محدثین نے بجاطور پر یہ کیا کہ انھوں نے علمِ حدیث کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے حدیثِ رسول سے استفادہ کرنے کے لیے پختہ علمی اصول وضع کیے۔ انھوں نے غیر معمولی محنت کے ذریعے صحیح احادیث کے مجموعے تیار کئے۔ اس طرح یہ ممکن ہو گیا کہ امت کے افراد، پیغمبر کے مستند اقوال اور اعمال کو جانیں اور اس پر عمل کریں۔ مگر اسی کے ساتھ مصلحین کا ایک اور گروہ پیدا ہوا، جس کو واضعینِ حدیث کا گروہ کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ اُس غلطی کا شکار ہوئے جس کا مظاہرہ خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہو چکا تھا۔ اس ظاہرے کو حضرت انس بن مالک کی ایک روایت میں کأنہم تقالّوها (صحيح البخاري، رقم الحدیث: 5063) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی کچھ لوگوں نے عبادت کے معاملے میں پیغمبر اسلام کی سنت کو کم سمجھا اور بطور خود اس پر اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مزاج کو ایک لفظ میں کم تر اندازہ کرنا (to underestimate) کہا جا سکتا ہے۔
اسی غلط مزاج کی بنا پر عباسی دور کے مصلحین نے ترغیب اور تشویق کے لیے حدیثیں وضع کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد صوفیانے بھی اسی اسلوب کو اختیار کر لیا۔ انھوں نے تزکیہ کے لیے بطورِ خود نئے نئے طریقے وضع کئے۔ یہ اسلوب اتنا زیادہ پھیلا کہ بعد کو علما اور واعظین اور مبلغین کی اکثریت نے اپنی تقریر اور تحریر میں اس کو اختیار کر لیا، صرف اس فرق کے ساتھ کہ کچھ لوگ اگر واضعِ حدیث بن گئے تو دوسرے لوگ ناقلِ موضوعات۔
اس روایت میں ”تقالّوها“ کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی چیز کو کم سمجھنا، اس کا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues