انکار حدیث کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۷
کم تر اندازہ (underestimation) کرنا۔ اصولی طور پر یہی مزاج ہے جو ہر قسم کی بدعات کا اصل سبب ہے۔ اپنے ذہن (mindset) کی بنا پر ایک آدمی قرآن اور حدیث کی تعلیم کو کم سمجھتا ہے اور بظاہر اچھی نیت سے اُس میں اضافہ کرتا ہے۔ مگر دین کے معاملے میں اِس قسم کا اضافہ یقینی طور پر باطل ہے۔ کوئی بھی عذر اس کو جائز ٹھہرانے کے لیے کافی نہیں۔
حدیث کے الفاظ میں یہ سرتاسر جھوٹ (کذب) ہے۔ اس سلسلے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: من كذب علي فليتبوأ مقعده من النار (صحيح البخاري، رقم الحديث: 107) یعنی جس نے میرے اوپر جھوٹ کہا، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں: من يقل علي مالم أقل، فليتبوأ مقعده من النار (صحیح البخاري، رقم الحديث: 109) یعنی جس نے میری طرف منسوب کرتے ہوئے وہ کہا جو میں نے نہیں کہا ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ اس قسم کی روایتیں جو احادیث کی کتابوں میں آئی ہیں، وہ اپنے مفہوم میں نہایت واضح ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے صرف وہی بات کہی جاسکتی ہے جو آپ نے خود فرمایا ہو۔ کوئی ایسی بات جو آپ نے نہ کہی ہو، اس کو آپ کی طرف منسوب کرکے کہنا، یقینی طور پر ایک فعل حرام کی حیثیت رکھتا ہے۔
بہت سے مصلحین اور صوفیا اور علما جنھوں نے بطور خود شریعت میں اضافے کئے ہیں اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا ہے، وہ اس کے جواز میں کہتے ہیں کہ یہ کذب نہیں۔ اس لیے کہ یہ رسول اللہ کی تائید میں ہے، نہ کہ آپ کی مخالفت میں (أنه كذب له، لا عليه)، یعنی دینی امور میں اِس قسم کا اضافہ، اضافہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ترغیب و تشویق ہے۔ مگر اس قسم کا کوئی بھی عذر اس معاملے میں قابل قبول نہیں۔ دین میں اس قسم کا اضافہ، خواہ وہ عمداً ہو یا سہواً، وہ عذر کے ساتھ ہو یا عذر کے بغیر، بظاہر وہ چھوٹا ہو یا بڑا، ہر حال میں وہ فعل حرام کی حیثیت رکھتا ہے۔ کوئی شخص اپنی رائے کے طور پر کچھ بھی کہنے کا حق رکھتا ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے منسوب کرکے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues