انکار حدیث کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۸
کچھ کہنا، بلاشبہ حرام ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی سخت پکڑ ہوگی۔ (2009ء) حدیثوں میں اختلاف کا مسئلہ ایک شخص جب حدیث کا تفصیلی مطالعہ کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ حدیثوں میں کافی اختلاف ہے جو عام طور پر قرآن میں نظر نہیں آتا۔ یہ دیکھ کر وہ الجھن میں پڑ جاتا ہے اور حدیث کی صحت کا انکار کر دیتا ہے۔ مگر یہ کم فہمی کی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ قرآن میں اسلام کے بنیادی اصول بتائے گئے ہیں جو ہمیشہ یکساں رہتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں حدیث اس بات کا ریکارڈ ہے کہ ان غیر متغیر اصولوں کو روزانہ کے بدلتے ہوئے حالات میں کس طرح منطبق کیا گیا۔ عملی زندگی چوں کہ ہمیشہ ایک حال پر نہیں رہتی، اس لیے فطری طور پر انطباق میں فرق ہو جاتا ہے۔ حدیثوں میں جو بظاہر اختلاف نظر آتا ہے، وہ دراصل اسی فطری فرق کی بنا پر پیدا ہوا ہے۔ وہ حکم کا اختلاف نہیں، بلکہ انطباق کا اختلاف ہے۔ مثال کے طور پر ہدیہ (gift) کے مسئلے کو لیجئے۔ ایک طرف بہت سی روایتیں ہیں جن میں ہدیہ اور تحفہ کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ اس کے برعکس روایتیں بھی ہیں۔ مثلاً موطا (باب ما جاء فی المہاجرة) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے کو ہدیہ دو، اس سے باہمی محبت پیدا ہوگی اور عداوت جاتی رہے گی: تہاد و تحابوا وتذهب الشحناء (موطأ الإمام مالك، رقم الحديث: 1651)۔
یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ ہدیہ اور تحفہ کے لین دین سے آپس میں انسیت اور محبت بڑھتی ہے۔ اسی طرح ہدیہ اور تحفہ نہ دینے سے دوری پیدا ہوتی ہے۔ اور اگر کوئی ہدیہ دے اور اس کو قبول نہ کیا جائے تو اس کا برعکس اثر ہوگا، آپس میں نفرتیں بڑھیں گی، باہمی تعلقات میں کھنچاؤ اور تناؤ کی حالت پیدا ہو جائے گی۔ اس طرح کی کیفیت دیر تک باقی رہے تو ایسے ماحول میں کوئی تعمیری کام کرنا سرے سے ناممکن ہو جائے گا۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدايا کے تبادلے کی تلقین بھی کی اور خود بھی اس پر عمل فرمایا۔ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی ہدیہ دیا جاتا تو آپ خوشی کے ساتھ اس کو قبول فرماتے تھے: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقبل الهدية.
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues