Al-Risala · December 2013 · page 29

انکار حدیث کا مسئلہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۲۹

(فتح الباری بشرح صحيح البخاري: 249/5)

اب جہاں تک اہل اسلام سے ہدیہ قبول کرنے کا تعلق ہے، اس میں احادیث میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا، لیکن غیر مسلموں کے سلسلے میں روایت میں اختلاف ہے۔ کچھ روایتیں بتاتی ہیں کہ کسی غیر مسلم نے ہدیہ پیش کیا تو آپ نے شوق کے ساتھ اس کو قبول فرمايا۔ دوسری طرف ایسی بھی روایتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں کسی مشرک کا ہدیہ قبول نہیں کرتا: إني لا أقبل هدية مشرك. (فتح الباری: 5/273)

سنن أبي داؤد (باب في الإمام يقبل هدایا المشركين) میں ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عظیم فدک (غیر مسلم حکمران) کا ہدیہ قبول فرمایا۔ پھر عین اسی باب میں دوسری روایت ہے کہ ایک غیر مسلم نے ہدیہ پیش کیا تو آپ نے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ (سنن أبي داؤد، رقم الحدیث: 3055)

یہاں واضح طور پر ایک ہی معاملے میں دو مختلف مسلک اختیار کیا گیا۔ مگر یہ کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ ایک سادہ فطری حقیقت ہے۔ اس فرق کا سبب نفس حکم کا فرق نہیں ہے، بلکہ حالات کا فرق ہے اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ حالات کی رعایت ہمیشہ ایک حکم کے انطباق میں فرق پیدا کر دیتی ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کے لئے یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔

1- روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی بار حاکموں اور سرداروں سے ہدیہ قبول فرمایا۔ مثلاً تبوک کی مہم (رجب 9 ہجری) میں آپ نے تیس ہزار اصحاب کے ساتھ سفر فرمایا تھا۔ اس مہم کے ذیل میں جو واقعات پیش آئے، ان میں سے ایک یہ تھا کہ اس علاقے کے مقام ایلہ کا حاکم یوحنا بن روبہ آپ کی خدمت میں آیا۔ اس نے آپ کو ایک سفید خچر کا ہدیہ پیش کیا، جو واضح طور پر اس بات کی علامت تھی وہ آپ کے ساتھ اچھے تعلق قائم کرنا چاہتا ہے۔ چناں چہ آپ نے خوشی کے ساتھ اس کا ہدیہ قبول فرمایا۔ اس کے بعد معتدل فضا میں اس سے بات ہوئی۔ اس نے آپ سے صلح کر لی اور جزیہ دینے پر راضی ہو گیا۔ (فتح الباری: 405/3)۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page