Al-Risala · December 2013 · page 30

حدیث رسول: افادیت کے چند پہلو

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۰

یہ واقعہ واضح طور پر تالیف قلب کا واقعہ ہے۔ ایک حاکم جس سے اچھے تعلقات قائم کرنے کی ضرورت ہے، اگر اس کا ہدیہ قبول نہ کیا جائے تو تلخی پیدا ہوگی اور بہتر تعلقات قائم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، اس کا ہدیہ قبول کرنا اور اپنی طرف سے اس کو ہدیہ پیش کرنا قربت اور انس کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے غیر مسلم حاکموں سے ان کا تحفہ قبول فرمایا۔ سرداروں اور حکمرانوں سے ہدیہ قبول کرنے کے متعدد واقعات حدیث کی کتابوں میں آئے ہیں۔ اب دوسری نوعیت کی مثال لیجیے ۔ سنن ابی داؤد (رقم الحدیث: 3057) اور بعض دوسری کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ایک مشرک عیاض بن حمار المجاشعی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی بطور ہدیہ پیش کی۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ نے فرمایا: فإني نهيت عن زبد المشركين (مجھے مشرکوں کا عطیہ لینے سے منع کیا گیا ہے۔ ) فتح الباری 273/5۔

واقعات بتاتے ہیں کہ یہ انکار حقیقتاً کوئی انکار نہ تھا، بلکہ وہ شفقت کا ایک معاملہ تھا۔ اپنی زبان میں ہم اس کو ایک قسم کا ترغیبی انکار کہہ سکتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ عیاض بن حمار آپ کی تحریک توحید سے متاثر تھے اور ذاتی طور پر آپ کے عقیدت مند بن چکے تھے۔ مگر ابھی تک انھوں نے اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا۔ آپ نے مذکورہ الفاظ میں ہدیہ کا انکار کر کے اُن کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ حسب توقع اس کا مفید اثر ہوا اور جلد ہی انھوں نے با قاعدہ اسلام قبول کر لیا۔ چناں چہ اب اُن کو اسلام کی تاریخ میں عیاض بن حمار المجاشعی رضی اللہ عنہ لکھا جاتا ہے۔ (1997)

حدیث رسول: افادیت کے چند پہلو

حدیث کے لفظی معنی بات (word) کے ہیں۔ اصطلاحی طور پر حدیث سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر وہ بات ہے جو آپ نے کہا یا جس پر آپ نے عمل کیا یا جس کی آپ نے تصدیق کی۔ قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آیا ہے کہ: وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (68:4) یعنی بے شک تم ایک اعلیٰ اخلاق پر ہو۔ اس آیت میں 'عظیم' کا لفظ شخصی تعریف کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ اس کا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page