Al-Risala · December 2013 · page 31

حدیث رسول: افادیت کے چند پہلو

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۱

مطلب یہ ہے کہ دینِ خداوندی میں جس اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے، تم اُس اعلیٰ اخلاق کا عملی نمونہ ہو۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ کا اخلاق کیا تھا۔ انھوں نے جواب دیا کہ: کان خلقہ القرآن (الادب المفرد، رقم الحدیث: 308) یعنی آپ کا اخلاق قرآن تھا۔ حضرت عائشہ کا یہ قولِ حدیثِ رسول یا سنتِ رسول کی اصل حقیقت کو بتاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کا عملی انطباق تھے۔ قرآن اگر قرآن ہے تو رسول اللہ کی حیثیت انطباقی قرآن (applied Quran) کی ہے۔ یہ ویسا ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ایک ہے اسپرچوئلٹی اور دوسری چیز ہے اپلائڈ اسپرچوئلٹی (applied spirituality)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے جو کتابی مجموعے تیار کیے گئے ہیں، اُن کی تعداد تقریباً 50 تک پہنچتی ہے۔ یہ احادیث گویا رسول اللہ کی پوری زندگی کا تعارف ہیں۔ آج کل کی زبان میں کہا جا سکتا ہے کہ احادیث کا مجموعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور عمل کا انسائیکلو پیڈیا ہے۔ ان احادیث میں جو مختلف مضامین آئے ہیں، اُن کا اشارہ قرآن میں موجود ہے۔ احادیث کے دس اہم پہلو 1- حدیثِ تبیینِ قرآن: قرآن، دینِ خداوندی کی بنیادی تعلیمات (basics) کا مجموعہ ہے۔ حدیث اس کی تفصیل ہے جو کہ خود مہبطِ قرآن کی زبان سے بیان کی گئی ہے۔ 2- حدیثِ اسوۂ رسول: خدا کی کتاب پر عمل کرنے والا سب سے پہلا شخص ہمیشہ خود پیغمبر ہوتا ہے۔ حدیثِ پیغمبر کے اسی عمل کا ریکار ڈہے۔

3- حدیثِ پوائنٹ آف ریفرنس: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی واقعات سے بھری ہوئی زندگی تھی، اس لیے آپ کی زندگی میں حیاتِ انسانی کی رہنمائی کے لیے ہر قسم کے حوالے موجود ہیں۔ 4- حدیثِ معیارِ حق: حدیث بتاتی ہے کہ کسی معاملے میں فیصلے کا صحیح معیار (right criterion) کیا ہے، انفرادی معاملات میں بھی اور اجتماعی معاملات میں بھی۔ 5- حدیثِ صحبتِ رسول: بعد کے زمانے کے لوگوں کے لیے حدیث صحبتِ رسول

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page