Al-Risala · December 2013 · page 33

حدیث رسول: افادیت کے چند پہلو

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۳

قرآن کی اس آیت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، قرآنی آیات کی تشریح و توضیح ہیں۔ رسول کی حیثیت مہیطِ قرآن کی ہے۔ آپ نے قرآن کی جس آیت کی جو تشریح کی، وہی اصلاً اُس آیت کی مستند تشریح ہے۔ یہاں اس معاملے کی وضاحت کے لیے چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ سورہ العنکبوت میں یہ آیت آئی ہے: اُتْلُ مَا اُوْحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَلِذِكْرُ اللَّهِ اَكْبَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ (29:45) یعنی تم اس کتاب کو پڑھو جو تم پر وحی کی گئی ہے اور نماز قائم کرو۔ بے شک نماز بے حیائی سے اور برے کاموں سے روکتی ہے، اور اللہ کی یاد بہت بڑی چیز ہے، اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دینِ اسلام میں نماز ایک بے حد اہم عبادت ہے۔ لیکن اس عبادت کی عملی صورت کیا ہو، اس کو جاننے کے لیے ایک زندہ انسان کی ضرورت ہے۔ یہ معیاری انسان ہم کو رسول کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: صلوا كما رأيتموني أصلي (السنن الكبرى للبيهقي، رقم الحديث: 3672) یعنی تم نماز اُس طرح پڑھو، جس طرح تم مجھ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ صحابہ نے رسول کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور پھر اس کو احادیث کے ذریعے امت تک پہنچایا۔

قرآن کی ایک آیت میں یہ تعلیم دی گئی ہے: كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاْسُجُدْ وَاقْتَرِبْ (96:19) یعنی ہرگز نہیں، اس کی بات نہ مان اور سجدہ کر اور قریب ہو جا۔ اس آیت میں سجدۂ قربت سے کیا مراد ہے، اس کا علم ایک حدیث سے ہوتا ہے۔ ایک مشہور حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: تعبد الله كأنك تراه (صحيح البخاري، رقم الحديث: 4499) یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو۔ مذکورہ آیت اور حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ عابد کا شعور اتنا ترقی کرے کہ اس کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ ہونے لگے۔ یہ احساس اتنا شدید ہو کہ عابد کو یہ محسوس ہونے لگے گویا کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ حج بھی ایک عبادت ہے۔ حجۃ الوداع کی روایات میں سے ایک روایت وہ ہے جس سے یہ

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page