حدیث اسوہ رسول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۴
معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کی اصل حقیقت کیا ہے۔ اسامہ بن شریک ایک صحابی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ منیٰ میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تھے۔ کوئی شخص کہتا کہ اے خدا کے رسول، میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی، کوئی کہتا کہ میں نے رمی جمار سے پہلے حلق کرا لیا، کسی نے کہا کہ میں نے پہلے قربانی کی اور اس کے بعد میں نے رمی کیا۔ اسی طرح لوگ مختلف قسم کے سوالات پوچھتے رہے۔ آپ اس قسم کے سوالات کے جواب میں فرماتے: افعل ولا حرج، افعل و لا حرج، لا حرج إلا علی رجل افترض عرض رجل مسلم، وهو ظالم، فذلك الذي حرج وهلك (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 329) یعنی کرلو، کوئی حرج نہیں۔ کر لو، کوئی حرج نہیں۔ حرج کی بات تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ اُسی نے حرج والا کام کیا اور ہلاک ہوا۔
اس حدیث رسول سے ایک اہم بات معلوم ہوتی ہے، وہ یہ کہ عبادت میں اصل اہمیت عبادت کی اسپرٹ کی ہے۔ جہاں تک عبادت کے فارم کا تعلق ہے، وہ عملاً ضروری ہے، لیکن اگر عبادت کے فارم میں بظاہر کوئی فرق واقع ہو جائے تو وہ اللہ کے نزدیک قابلِ قبول ہے، بشرطیکہ عبادت کی اسپرٹ میں فرق نہ ہوا ہو۔ گویا کہ عبادت میں عابد کا فوکس سب سے زیادہ عبادت کی اسپرٹ پر ہونا چاہئے، نہ کہ عبادت کے فارم پر۔
حدیث اسوہ رسول
قرآن کی سورہ الاحزاب میں یہ آیت آئی ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (33:21) یعنی تمھارے لیے اللہ کے رسول (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے، اُس شخص کے لیے جو اللہ کا اور وہ آخرت کے دن کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔
قرآن کی یہ آیت غزوہ احزاب (5 ہجری) کے بعد اتری۔ اس اعتبار سے، اُس کا ایک انطباق وہ ہے جو اس غزوہ کے دوران ظاہر ہوا۔ لیکن اسی کے ساتھ اُس کا ایک وسیع تر انطباق بھی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues