حدیث اسوہ رسول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۵
اس اعتبار سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اہل ایمان کے لیے اسوہ حسنہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ غزوہ احزاب کے زمانے میں جو واقعات پیش آئے، اُن کی تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ یہاں اس سلسلے کی صرف ایک روایت نقل کی جاتی ہے جو اپنے مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے نہایت جامع ہے۔ اس میں پوری زندگی کے لیے رہنمائی ملتی ہے۔
غزوہ احزاب 5 ہجری میں پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بارہ ہزار کا لشکر مکہ سے روانہ ہوا ہے اور مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔ آپ نے اس معاملے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا۔ حضرت سلمان فارسی کے مشورے سے یہ طے ہوا کہ ٹکراؤ سے بچنے کے لیے یہ کیا جائے کہ مدینہ کے شمال مغربی حصے میں دو پہاڑوں کے درمیان ایک خندق (trench) کھود دی جائے۔ چناں چہ ایسا ہی کیا گیا۔ اہلِ مکہ کا لشکر جب مدینہ کی سرحد پر پہنچا تو خندق پر اُن کو اپنی پیش قدمی روکنی پڑی۔ یہ اہل عرب کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ چناں چہ اس کو دیکھ کر لشکر کے سردار نے کہا: واللہ إن هذه لمكيدۃ ما كانت العرب تكيدها (السيرة النبوية لابن هشام: 182/4) یعنی خدا کی قسم، یہ ایک ایسی تدبیر ہے جیسی تدبیر سے اہل عرب اب تک ناواقف تھے۔
یہ خندق لشکر کی مزید پیش قدمی کے لیے رکاوٹ (buffer) بن گئی۔ تقریباً ایک مہینہ پڑاؤ ڈالنے کے بعد اہل مکہ واپس چلے گئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا یہ واقعہ صرف ایک وقتی واقعہ نہیں، اس واقعے میں انسانی زندگی کے لیے ایک جامع رہنمائی موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب ٹکراؤ کی صورت پیش آئے تو اُس وقت تم ٹکراؤ کا آپشن نہ لو، بلکہ یک طرفہ تدبیر کے ذریعے اپنے اور فریق ثانی کے درمیان ایک آڑ یا فاصل (buffer) قائم کر لو۔ اس طرح تم متشددانہ ٹکراؤ اور اس کے نقصان سے بچ جاؤ گے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری زندگی میں مختلف صورتوں میں اس طریقے کو اختیار کیا۔ مثلاً غزوہ حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر آپ نے فریق ثانی کی شرطوں کو یک طرفہ طور پر مان کر اُن سے دس سال کا ناجنگ معاہدہ (no-war pact) کر لیا۔ یہ بھی اپنے اور فریق ثانی کے درمیان
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues