Al-Risala · December 2013 · page 36

حدیث اسوہ رسول

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۶

فاصل قائم کرنے کی ایک صورت تھی۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصبر معول المؤمن (حلیة الأولیاء: 342/5) یعنی صبر مومن کی ڈھال ہے۔ گویا اجتماعی زندگی میں صبر کا طریقہ اپنے اور فریق ثانی کے درمیان فاصل قائم کرنے کی ایک صورت ہے۔ نزاع کے موقع پر اپنے اور فریق ثانی کے درمیان فاصل (buffer) قائم کرنا ایک حکیمانہ تدبیر ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کو مہلت حاصل کرنے کی تدبیر (buying-time method) کہا جا سکتا ہے۔ اس تدبیر کے ذریعے آدمی کو موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی طاقت کو ٹکراؤ میں ضائع کرنے سے بچ جائے۔ وہ اس حاصل شدہ وقت کو موقع (opportunity) کے طور پر استعمال کرے۔ حدیث پوائنٹ آف ریفرنس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اور آپ کے اصحاب کی زندگی واقعات سے بھری ہوئی زندگی (eventful life) تھی۔ آپ کی زندگی میں اور آپ کے اصحاب کی زندگی میں ہر قسم کے واقعات پیش آئے اور پھر یہ واقعات حدیثوں کی صورت میں ریکارڈ ہو گئے۔ جو شخص رسول اور اصحاب رسول کی زندگی کا مطالعہ کرے گا، وہ حیرت انگیز طور پر پائے گا کہ اس کے اندر حقیقی واقعات موجود ہیں۔ اس بنا پر یہ ممکن ہو گیا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کی زندگی کے حوالے سے ہر معاملے میں مستند رہنمائی حاصل کی جاسکے۔

اس معاملے کی ایک مثال وہ واقعہ ہے جو روایت میں اس طرح آیا ہے: و كانت قريش إنما تسمى رسول الله صلى الله عليه و سلم مذمما، ثم يسبونه ـ فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ألا تعجبون لما صرف الله عني من أذى قريش ـ يسبون و يهجون مذمما وأنا محمد (السيرة النبوية لابن هشام: 201/2) یعنی قریش (مکی دور میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومذمم (مذمت کیا ہوا) کے نام سے پکارتے تھے اور پھر آپ کو برا بھلا کہتے تھے۔ چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اپنے اصحاب سے) کہتے تھے کہ کیا تم کو اس پر تعجب نہیں ہے کہ اللہ نے مجھے قریش کی اذیت سے بچا لیا ہے۔ وہ مذمم کہہ کر میری ہجو کرتے ہیں، حالاں کہ میرا نام محمد ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page