حدیث معیارِ حق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۷
اس واقعے سے زندگی کا ایک اہم اصول ملتا ہے، وہ یہ کہ جب کوئی شخص اشتعال کی بات کرے تو سننے والا خوب صورت جواب دے کر اس کو غیر مؤثر بنادے۔ یہ زندگی کی ایک حکمت ہے۔ اس حکمت کو دوسرے الفاظ میں ، اویسیور پلائی (evasive reply) کہا جاسکتا ہے۔
اس معاملے کی ایک اور مثال یہ ہے کہ ایک بار حضرت ابو بکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک شخص وہاں آیا اور آکر وہ حضرت ابو بکر کو برا بھلا کہنے لگا۔ حضرت ابو بکر پہلی بار سن کر چپ رہے۔ اس نے دوسری بار ان کو برا بھلا کہا تو اُس وقت بھی وہ چپ رہے۔ مگر جب اس نے تیسری بار ان کو برا بھلا کہا تو حضرت ابو بکر خاموش نہ رہ سکے اور جواب میں بول پڑے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت ابو بکر نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، آپ کیوں اٹھ گئے۔ آپ نے فرمایا کہ اے ابو بکر، جب تک تم چپ تھے، خدا کا فرشتہ تمھاری طرف سے جواب دے رہا تھا، جب تم بول پڑے تو فرشتہ وہاں سے چلا گیا: إن الملك كان يرد عنك، فلما تكلمت، ذهب الملك، ووقع الشيطان، وكرهت أن أجلس (شرح السنة للبغوي، رقم الحديث: 3586)
اس واقعے میں فرشتے کا لفظ کسی پر اسرار معنی میں نہیں ہے۔ اس سے مراد عملاً وہی ہے جس کو قرآن میں النفس اللوامة (75:2) یعنی ضمیر (conscience) کہا گیا ہے۔ اس واقعے میں یہ عمومی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص تم کو ناحق ستائے تو تم صرف یہ کرو کہ ردِ عمل کا طریقہ اختیار کرنے کے بجائے خاموش ہو جاؤ۔ تمھاری خاموشی کا یہ فائدہ ہوگا کہ مذکورہ شخص کا ضمیر جاگ اٹھے گا۔ اس طرح تم خود اپنے مخالف کے اندر اپنا ایک حامی پیدا کر سکتے ہو۔
حدیث معیارِ حق
زندگی کی ایک اہم ضرورت وہ ہے جس کو معیار (criterion) کہا جاتا ہے۔ زندگی کے معاملات میں ہمیشہ یہ ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی معیار ہو جس کے حوالے سے معاملے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ دین میں یہ حیثیت مستند طور پر صرف دو چیزوں کو حاصل ہے ــــ قرآن اور حدیث۔ یہی وہ بات ہے جو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کی گئی ہے: فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues