حدیث معیارِ حق
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۸
وَالرَّسُولِ (4:59) یعنی (اے ایمان والو) اگر تمھارے درمیان کسی چیز میں اختلاف ہو جائے تو تم اس کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ قرآن میں دین کی اساسی تعلیمات بتائی گئی ہیں اور تفصیل کے اعتبار سے زندگی کے بہت سے معاملات ہیں جن کے بارے میں ہم کو احادیث سے رہنمائی ملتی ہے۔ اس طرح قرآن اور حدیث کی صورت میں ایک ایسا مستند معیار مل جاتا ہے جو لوگوں کو اس سے بچاتا ہے کہ لوگ خود اپنے ذہن (mindset) سے رائے قائم کریں۔ اس طرح یہ اصول حاصل ہوتا ہے کہ ہر نزاعی موقع پر قرآن اور حدیث کے حوالے سے لوگوں کو صحیح طریقے کی رہنمائی دی جاسکے۔ اگر قرآن اور حدیث کا معیار موجود نہ ہو تو کوئی ایسی چیز نہ ہوگی جس کے حوالے سے لوگوں کو مستند طور پر کوئی رہنمائی دی جاسکے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر موافق بات نظر آتی ہے تو لوگ فوراً اس کے خلاف ٹکراؤ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے معاملے میں کارروائی نہ کرنا بز دلی ہے۔ یہ ذہن لوگوں کے اندر بہت زیادہ عام ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس معاملے میں فیصلہ کن رہنمائی کہاں سے حاصل کی جائے۔ اس کا جواب ہمیں ایک حدیث میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ينبغي للمؤمن أن يُذل نفسه قالوا: و كيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من البلاء لما لا يطيق (الترمذي، رقم الحديث (2254) یعنی مومن کے لیے سزاوار نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ لوگوں نے پوچھا کہ کوئی شخص اپنے آپ کو کس طرح ذلیل کرے گا۔ آپ نے فرمایا کہ وہ ایسی آزمائش کا سامنا کرے جس سے نمٹنے کی اس کے اندر طاقت نہ ہو۔ اس حدیث رسول سے اجتماعی زندگی کے لیے ایک اہم اصول ملتا ہے۔ وہ یہ کہ اجتماعی زندگی میں کوئی اقدام کرنا صرف اُس وقت جائز ہے جب کہ اقدام سے کوئی مثبت نتیجہ (positive result) نکلنے والا ہو۔ جس اقدام کا نتیجہ منفی صورت میں نکلنے والا ہو، ایسا اقدام کرنا مومن کا طریقہ نہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جو اقدام کا ؤنٹر پروڈکٹیو (counterproductive) ثابت ہونے والا ہو، اُس سے مومن کو اُسی طرح بچنا چاہیے جس طرح کسی حرام فعل سے بچا جاتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues