Al-Risala · December 2013 · page 39

حدیث صحبتِ رسول

الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۳۹

حدیث صحبتِ رسول

حدیث کیا ہے، وہ گویا صحبتِ رسول کی مستند رپورٹ ہے۔ حدیث کی کتابوں میں جو روایتیں جمع کی گئی ہیں، اُن کی نوعیت یہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب آپ کے ساتھ آپ کی صحبت میں بیٹھتے تھے۔ وہ نہایت غور کے ساتھ آپ کی باتیں سنتے تھے۔ پرنٹنگ پریس کے زمانے سے پہلے لوگوں کے حافظے نہایت قوی ہوتے تھے۔ چناں چہ رسول اللہ کی کہی ہوئی باتیں لوگوں کو پوری طرح یاد ہو جاتی تھیں۔ بعد کو ان باتوں کو باقاعدہ طور پر لکھا جانے لگا۔ اس طرح حدیث کی وہ کتابیں تیار ہوئیں جواب ہمارے کتب خانوں میں پائی جاتی ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ اقوال ہمیشہ فطری اسلوب میں ہوتے تھے۔ آج اگر کوئی شخص ان اقوالِ رسول کو توجہ کے ساتھ پڑھے، وہ ذہنی طور پر اپنے آپ کو اُس ماحول میں پہنچادے، جب کہ یہ باتیں کہی جارہی تھیں، تو پڑھنے والے کو اپنی شعوری بیداری کی بنا پر ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ پیغمبر کی صحبت میں پہنچ گیا ہے اور براہِ راست طور پر آپ کی باتوں کو سن رہا ہے۔ اس طرح احادیث نے گویا کہ پیغمبر کی صحبت کو ابدی بنادیا ہے۔ اس کی ایک مثال مشہور حدیث جبریل ہے۔ جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم میں اس کو باب بیان الایمان کے تحت دیکھا جاسکتا ہے۔ آپ یکسو ہو کر اور استحضار کے ساتھ اس حدیث کو پڑھیں تو حدیث کا متن آپ کو اس طرح اپنی طرف کھینچ لے گا کہ آپ محسوس کریں گے کہ آپ بھی مدینہ کی اُس مجلس میں ہیں جہاں پیغمبر اور جبریل کے درمیان یہ مکالمہ ہوا— تقریباً یہی معاملہ تمام دوسری حدیثوں کا بھی ہے۔ حدیث پیغمبرانہ معرفت احادیث کا جو مجموعہ مختلف کتابوں کی صورت میں مرتب ہوا ہے، وہ سادہ طور پر صرف پیغمبر کے اقوال کا مجموعہ نہیں ہے، بلکہ وہ پیغمبر کی شخصیت کا مکمل تعارف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی انسان کا کلام اُس انسان کا تعارف ہوتا ہے۔ یہ بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے بارے میں مزید اضافے کے ساتھ درست ہے۔ مثال کے طور پر یہاں ایک روایت کا مطالعہ کیجئے: أمرني ربي بتسع: خشية الله

‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues

Printed page