حدیث صحبتِ رسول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۴۰
فی السر والعلانية، وكلمة العدل في الغضب والرضا، والقصد في الفقر والغنا، وأن أصل من قطعني، وأعطی من حرمني، وأعفوا عن من ظلمني، وأن يكون صمتي فكراً، ونطقي ذكراً، ونظري عبرة (جامع الأصول، رقم الحديث: 9317) یعنی میرے رب نے مجھے 9 باتوں کا حکم دیا ہے: کھلے اور چھپے ہر حال میں، میں خدا سے ڈرتا رہوں۔ غصے میں ہوں یا خوشی میں، ہمیشہ انصاف کی بات کہوں۔ محتاجی اور امیری دونوں حالتوں میں، میں اعتدال پر قائم رہوں۔ جو مجھ سے کٹے، میں اُس سے جُڑوں۔ جو مجھے محروم کرے، میں اْس کو دوں۔ جو مجھ پر ظلم کرے، میں اس کو معاف کردوں۔ میری خاموشی غور وفکر کی خاموشی ہو۔ میرا بولنا یاد الہی کا بولنا ہو۔ میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔ اس حدیث کو بار بار پڑھیے۔ اس پر گہرائی کے ساتھ غور کیجئے۔ اگر آپ سنجیدگی کے ساتھ ایسا کریں تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ پیغمبر کو دیکھے بغیر دیکھ رہے ہیں۔ آپ کو ایسا محسوس ہوگا جیسے کہ پیغمبر کی شخصیت آپ کے سامنے مستحضر ہوگئی ہو۔ آپ محسوس کریں گے کہ آپ پیغمبر کے ذوق (taste) کو دریافت کر رہے ہیں۔ آپ پیغمبر کی ترجیحات (priorities) سے باخبر ہو رہے ہیں۔ آپ کو نظر آ رہا ہوگا کہ پیغمبر کے ذہن میں کس قسم کا تھاٹ پر اسس (thought process) چلتا رہتا تھا۔ پیغمبر کی اخلاقی قدریں (moral values) کیا تھیں جن کے مطابق، وہ انسانوں کے ساتھ معاملہ کرتا تھا۔ پیغمبر کے دن اور رات کن کیفیات میں بسر ہوتے تھے، وغیرہ۔
غرض یہ کہ آپ اس روایت اور دوسری روایتوں میں غور کر کے پیغمبر کی اعلی ربانی شخصیت کی پوری تصویر دیکھ سکتے ہیں، حتی کہ آپ کا شعور مکمل طور پر بیدار ہو تو آپ کی یہ دریافت تقریباً اتنی ہی زیادہ حقیقی ہو سکتی ہے، جتنا کہ پیغمبر کے، ہم عصر اہل ایمان کی دریافت ہو سکتی تھی۔ حدیث نقطہ آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کامل معنوں میں ایک عملی انسان تھے۔ آپ نے زیر و (zero) سے اپنے مشن کا آغاز کیا اور پھر اس کو کمال کے درجے تک پہنچایا۔ اس اعتبار سے، آپ کی زندگی میں اس مشکل مسئلے کا ایک کامیاب نمونہ ملتا ہے کہ اپنے عمل کا آغاز کہاں سے کیا جائے۔ آپ کی حدیثیں آپ کی
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues