حدیث صحبتِ رسول
الرسالہ، دسمبر ۲۰۱۳، صفحہ ۴۱
اسی عملی زندگی کا ریکارڈ ہیں۔ آپ کی حدیثوں کے مطالعے سے نہایت واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کسی عمل کادرست نقطہ آغاز (right starting point) کیا ہے۔
اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کا ایک جز یہ تھا کہ کعبہ کی عمارت کو بتوں سے پاک کیا جائے، جہاں اُس وقت تقریباً 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ کعبہ میں جاتے تھے۔ آپ وہاں نماز پڑھتے تھے۔ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے۔ لیکن مکی دور کے 13 سال تک آپ نے کبھی ان بتوں سے تعرض نہیں کیا، حتیٰ کہ کعبہ میں ان کی موجودگی پر احتجاج بھی نہیں کیا، حالاں کہ آپ کے مشن میں یہ شامل تھا کہ کعبہ سے بتوں کا خاتمہ کیا جائے، جیسا کہ آپ نے فتح مکہ کے بعد کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل سے ایک اہم اصول اخذ ہوتا ہے، وہ یہ کہ کسی عمل کا نقطہ آغاز کیا۔ کسی عمل کا نقطہ آغاز یہ ہے کہ بالواسطہ طور پر پر امن دعوت کی شکل میں اپنے عمل کا آغاز کیا جائے ۔ جہاں تک عملی اقدام کا تعلق ہے، وہ صرف اس وقت کیا جائے جب کہ وہ پوری طرح ممکن ہو چکا ہو، جب وہ وقت آجائے کہ کوئی نیا مسئلہ پیدا کیے بغیر اس کو تکمیلی سطح تک پہنچایا جائے ۔ حدیث دلیل نبوت حدیث کی ایک حیثیت یہ ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کی ایک محکم دلیل ہے، یعنی کلام اپنے آپ میں یہ گواہی دیتا ہے کہ متکلم کوئی عام انسان نہ تھا، بلکہ وہ اللہ رب العالمین کا پیغمبر تھا۔ حدیث کے ذخیرے میں اس طرح کی بہت سی روایتیں ہیں۔ یہاں اس سلسلے میں صرف ایک حدیث کا ذکر کیا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بارے میں فرمایا: أنا سيد ولد آدم، ولا فخر، ولواء الحمد بيدي يوم القيامة، ولا فخر (سنن ابن ماجه، رقم الحديث: 4308) یعنی میں اولادِ آدم کا سردار ہوں، اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔ اور قیامت کے دن حمد کا علم میرے ہاتھ میں ہوگا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قوال آپ کی فضیلت کے بارے میں نہیں ہے۔ وہ دراصل ایک تاریخی واقعہ کی پیشین گوئی ہے۔ اس میں ایک ایسے واقعے کا ذکر ہے جو اسی دنیا میں پیش آئے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2013 All issues