پانچ فقہی اسکول
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
ہوتے ہیں، اور کچھ فروعی اجزا۔ یہ ایک عام اصول ہے کہ وحدت (oneness) اساسات میں مطلوب ہوتی ہے۔ جہاں تک فروع (non-basics) کا تعلق ہے، اُن میں ہمیشہ تنوع (diversity) ہوتا ہے۔ یہ ایک عمومی اصول ہے۔ فروع میں اگر تنوع نہ ہو تو اُس سے کٹر پن(rigidity) (rigidity) پیدا ہوتا ہے اور کٹر پن کسی بھی چیز کے لیے مفید نہیں۔
مزید یہ کہ خدا کی عبادت ایک زندہ عمل کا نام ہے۔ وہ کسی بے روح فارم کو دہرانے کا نام نہیں۔ عبادت کو جب اس کی زندہ اسپرٹ کے ساتھ انجام دیا جائے گا، تو یہی ہوگا کہ عبادت کے بنیادی اجزا کی حد تک تو یکسانیت ہوگی، لیکن اس کے فروعی اجزا میں تنوع پیدا ہو جائے گا۔ زندہ عبادت کبھی فروع میں یکسانیت کا خل نہیں کر سکتی۔ فروع میں یکسانیت لانے کی کوشش کرنا، عبادت کو بے روح رسموں کا ایک مجموعہ (set of rituals) بنا دینا ہے۔ ایسی عبادت ایک مشینی روبوٹ (robot) کی عبادت ہوگی، نہ کہ کسی زندہ انسان کی عبادت۔ عبادت، اعلیٰ کیفیات کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے۔ ایسا عمل کبھی یکسانیت کے ساتھ ادا نہیں کیا جا سکتا۔ اصحاب رسول کی عبادت کے بارے میں جو روایتیں آئی ہیں، ان کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی عبادت اگر چہ اساسات (basics) کے اعتبار سے یکساں انداز میں ہوتی تھی، لیکن غیر اساسی اجزا کے اعتبار سے، ان کے یہاں ہمیشہ تنوع پایا جاتا تھا۔ اس قسم کی ایک مثال یہاں نقل کی جاتی ہے جس سے صحابہ کی عبادت کا اندازہ ہوگا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رفاعہ بن رافع الانصاری (وفات: 661ء) کی ایک روایت ہے، جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (مغرب کی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب آپ نے رکوع کے بعد اپنا سر اٹھایا، تو آپ نے کہا: سمع اللہ لمن حمده۔ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے ایک شخص نے اُس میں اضافہ کرتے ہوئے کہا: ربنا ولك الحمد، حمداً كثيراً طيباً مبارکاً فيه۔ نماز ختم ہوئی تو رسول اللہ نے پوچھا کہ کس شخص نے ایسا کہا تھا۔ اُس آدمی نے کہا کہ میں نے۔ رسول اللہ نے فرمایا کہ میں نے تیس سے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues