Al-Risala · February 2013 · page

پانچ فقہی اسکول

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

زیادہ فرشتوں کو دیکھا۔ ان میں سے ہر ایک سبقت کر رہا تھا کہ وہ پہلے اس عمل کو لکھ لے (رأيت بضعةً وثلاثين ملكا يبتدرونها أيهم يكتبها أول) صحيح البخاري، رقم الحديث: 799۔ اس طرح کے بہت سے واقعات، حدیث کی کتابوں میں رسول اور اصحاب رسول کے بارے میں آئے ہیں۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ نماز کسی سیٹ پیٹرن (set pattern) کا نام نہیں، نماز ایک زندہ عمل کا نام ہے۔ کوئی زندہ عمل کبھی لگے بندھے طریقے سے نہیں ہوسکتا۔ زندہ عمل کیفیت سے بھرا ہوا عمل ہوتا ہے، اور کیفیت کبھی یکسانیت کی پابند نہیں ہوسکتی۔ اس سے نماز کے معاملے کو سمجھا جا سکتا ہے۔ نماز کے بنیادی ڈھانچے میں تو ہمیشہ یکسانیت پائی جائے گی، لیکن نماز کے فروعی اجزا ہمیشہ کیفیات کے تابع ہوتے ہیں۔ فروعی پہلوؤں میں کیفیت کا اظہار کبھی ایک طریقے پر ہوگا اور کبھی دوسرے طریقے پر۔ حقیقت یہ ہے کہ عبادت کو ہر پہلو سے یکساں قسم کے ڈھانچے کا پابند بنانا، عبادت کی اسپرٹ کے بھی خلاف ہے، اور پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے نمونے کے بھی خلاف۔

تاریخ بتاتی ہے کہ محدثین کے زمانے میں، یا اُن سے پہلے، مختلف قسم کے فقہی اسکول موجود نہ تھے۔ یہ اسکول بعد کو فقہا کے دور میں بنائے گئے۔ ابتدائی دور میں مختلف فقہی اسکول کا بننا محض ایک سادہ واقعہ معلوم ہوتا ہے، لیکن دھیرے دھیرے بعد کے زمانے میں، وہ غلو آمیز گروہ بندی کی صورت اختیار کرگیا، جب کہ غلو اسلام میں نہیں (لا غلوّ في الإسلام)۔

(نوٹ: مذکورہ موضوع پر مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوراقم الحروف کی کتاب : تجدید دین) سہارن پور (یوپی) میں مولانا وحید الدین خاں کی اردو، ہندی اور انگریزی کتابیں، قرآن مجید کے ترجمے، دعوتی لٹریچر اور ماہ نامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں: Dr. M. Aslam Khan (Principal)

National Medical IGNOU Community College 38 Ayodhyapuram Mahipura Dehradun Road Saharanpur, U.P. www.nmicc.com, dr_aslm@rediff.com, +919997153735

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page