Al-Risala · February 2013 · page 17

امت میں اختلاف کا مسئلہ

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳، صفحہ ۱۷

امت میں اختلاف کا مسئلہ

دینی مسائل کے بارے میں اختلاف، امت کے افراد میں ہمیشہ پایا گیا ہے۔ اس طرح کے اختلافات کے بارے میں کچھ لوگوں نے شدت اختیار کی ہے اور اس کو حق اور ناحق کا مسئلہ بنا دیا۔ لیکن علماء اسلام کی اکثریت یہ مانتی ہے کہ غیر اساسی امور میں اختلاف فطری چیز ہے۔ ایسے اختلافات کو حق اور ناحق کا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے۔ مثال کے طور پر مشہور حنبلی عالم عبد اللہ بن محمد قدامہ المقدسی (وفات: 1223ء) نے اپنی کتاب "المغنی" کے مقدمہ میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے لکھا ہے کہ علماء امت کا اختلاف ایک رحمت واسعہ ہے: اختلافهم رحمة واسعة۔ اختلاف کے معاملے کا یہی ایک پہلو نہیں ہے کہ اس میں شدت نہ اختیار کی جائے، بلکہ رایوں کے تعدد کو توسع پر محمول کرتے ہوئے ہر ایک کا احترام کیا جائے ۔ اس کے علاوہ، اس کا ایک مزید مثبت پہلو بھی ہے۔ اس معاملے کی طرف ایک روایت میں اشارہ کیا گیا ہے: اختلاف أمتی رحمة (تدريب الراوی للسيوطی 2/167) یعنی میری امت کا اختلاف ایک رحمت ہے۔

اختلاف سادہ طور پر صرف اختلاف نہیں، وہ رائے میں فرق کا نام ہے۔ اختلاف بند ذہن کو کھولتا ہے۔ رایوں کا فرق (difference of opinions) لوگوں کے اندر ڈکشن اور ڈائیلاگ کا ماحول پیدا کرتا ہے، وہ فکری ارتقا کا ذریعہ ہے۔ یہ اختلاف کا صحت مند پہلو ہے۔ اگر لوگوں میں رائے کا اختلاف نہ ہو تو ایسے گروہ کے اندر ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا۔ اس کے برعکس، جہاں رائے میں فرق پایا جائے، وہاں ذہنی ارتقا کا سلسلہ جاری رہے گا۔

اس معاملے میں اصل اہمیت کی بات یہ ہے کہ لوگوں کے اندر علمی ذوق ہو۔ اُن کے اندر طلب پائی جائے ۔ وہ کسی تعصب کے بغیر تبادلہ خیال کرنا جانتے ہوں ۔ جن لوگوں کے اندر یہ مزاج ہو، اُن کے لیے اختلاف فکری ارتقا کا ذریعہ بن جائے گا، وہ لوگوں کے اندر تخلیقی صلاحیت پیدا کرنے کا باعث بنے گا، نہ کہ ذہنی جمود اور انتشار پیدا کرنے کا سبب۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page