Al-Risala · February 2013 · page

مخاصمت نہیں

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

مخاصمت نہیں

مخاصمت اور اختلاف دونوں میں ایک چیز مشترک ہے، وہ یہ کہ دونوں کا آغاز ڈسپیویٹ (dispute) سے ہوتا ہے، لیکن عملی اعتبار سے دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، اختلاف پوری طرح ایک جائز فعل ہے اور مخاصمت پوری طرح ایک نا جائز فعل۔ درست اختلاف وہ ہے، جو تمام تر علمی حقائق پر مبنی ہو، جس میں شروع سے آخر تک معلوم حقائق (objective facts) کی بنیاد پر گفتگو کی جائے۔

اس کے برعکس، مخاصمت میں ساری بحث داخلی نیت پر حملہ اور الزام تراشی پر ہوتی ہے۔ اختلاف میں رایوں کا بدلنا ممکن ہوتا ہے۔ ایک فریق کی رائے اگر علمی تجزیے میں درست ثابت ہو تو دوسرا فریق کسی تاخیر کے بغیر اس کو تسلیم کر لیتا ہے۔

اختلاف کی حیثیت ایک علمی تبادلہ خیال (scientific discussion) کی ہوتی ہے۔ اس سے دونوں فریق کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے، وہ دونوں فریق کے لیے ذہنی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے۔ اختلاف اپنی حقیقت کے اعتبار سے، بحث و تکرار کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اعلی درجے کی علمی تلاش (scientific pursuit) کا نام ہے۔ اس میں دونوں فریق ہار اور جیت کے تصور سے اوپر اٹھ کر مشترک طور پر امر حق کو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس کے برعکس، مخاصمت ایک منفی سرگرمی کا نام ہے۔ مخاصمت ایک ایسا فعل ہے جو ہمیشہ علمی بد دیانتی پر قائم ہوتا ہے۔ مخاصمت ایک ایسا فعل ہے جو غیر علمی بھی ہے اور غیر اخلاقی بھی۔ مخاصمت کا کوئی بھی مثبت فائدہ نہیں، نہ ایک فریق کے لیے، نہ دوسرے فریق کے لیے۔

مخاصمت یہ ہے کہ ایک شخص کو کسی سے عناد ہو جائے، وہ ہر حال میں اس کی تنقیص، اُس پر عیب زنی اور اس کے خلاف الزام تراشی میں لگا رہے۔ اختلاف ایک ملکوتی فعل (2:30) ہے اور مخاصمت تمام تر ایک شیطانی فعل۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page