Al-Risala · February 2013 · page

دور سائنس اور مذہب

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

دور سائنس اور مذہب

انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جہاں تخلیق (creation) ہے، لیکن اس تخلیق کا خالق (Creator) بظاہر یہاں دکھائی نہیں دیتا۔ اس دنیا میں ڈیزائن ہے، لیکن بظاہر اس دنیا میں ڈیزائنر (designer) نظر نہیں آتا۔ اس دنیا میں واقعات ہو رہے ہیں، لیکن واقعات کو وجود میں لانے والا آنکھوں سے اوجھل ہے۔ پوری کائنات ایک عظیم انڈسٹری کی طرح کام کر رہی ہے، لیکن اس انڈسٹری کا انجینئر کسی خوردبین یا دوربین کے ذریعے دکھائی نہیں دیتا۔

انسان کو اسی سوال کا جواب دینے کے لیے دنیا میں پیغمبر ظاہر ہوئے۔ پیغمبروں نے ہر زمانے میں انسان کو بتایا کہ یہاں محسوسات کے پیچھے ایک غیر محسوس ہستی موجود ہے۔ یہ خدا ہے، اُس کو مانو اور اس کی عبادت کرو۔ گویا کہ پیغمبروں کا رول ایک اعتبار سے، ایک قسم کا استنباطی رول (inferential role) تھا، یعنی انھوں نے انسان کو بتایا کہ تم کو چاہیے کہ تم اپنی عقل کو استعمال کرو اور دکھائی دینے والی چیزوں سے استنباط کر کے، نہ دکھائی دینے والے خدا پر اپنے یقین کی بنیاد قائم کرو۔ پیغمبروں نے اپنے اس استنباطی رول کو مستند بنانے کے لیے یہ کیا کہ انھوں نے معجزے دکھائے۔ قرآن میں یہ بات ان الفاظ میں آئی ہے: إِنَّا أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ (57:25) یعنی پیغمبروں نے خرق عادت معجزے دکھائے، تاکہ انسان یہ یقین کر سکے کہ پیغمبر جو خبر دے رہے ہیں، وہ ایک درست خبر ہے۔ مثال کے طور پر پیغمبر موسیٰ پندرھویں اور سولھویں صدی قبل مسیح کے درمیانی زمانے میں مصر میں آئے۔ اُس وقت وہاں فرعون (Ramesses II) حکومت کر رہا تھا۔ فرعون نے کہا کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ (7:106)۔ فرعون کے اس مطالبے پر پیغمبر موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا، جو زندہ اژدہا بن کر زمین پر چلنے لگا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم 610ء میں پیغمبر کی حیثیت سے مکہ میں ظاہر ہوئے۔ آپ سے پہلے جو پیغمبر آئے، اُن کا طریقہ یہ تھا کہ وہ اپنے پیغام کی صداقت کے طور پر مذکورہ قسم کے معجزے دکھاتے رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page