دور سائنس اور مذہب
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
لیکن پیغمبر اسلام، جو سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تھے، ان کے بعد خارق عادت معجزات کا طریقہ ختم کر دیا گیا (17:59)- پیغمبر اسلام کے بعد کسی پیغمبر کا آنا موقوف ہو گیا، اور اسی کے ساتھ خارق عادات معجزات پیش کرنے کا سلسلہ بھی۔ اب پیغمبرانہ دعوت غیر پیغمبر داعیوں کے ذریعے دنیا میں جاری ہے، لیکن اب کوئی پیغمبر آنے والا نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک طرف یہ ہوا کہ دین حق اپنی اصل حالت میں پوری طرح محفوظ ہو گیا، یہاں تک کہ اب اُس میں کسی تحریف یا تبدیلی کا امکان نہیں۔ اب پیغمبرانہ مذہب کا متن بھی محفوظ ہے اور وہ زبان بھی محفوظ ہے جس میں یہ متن اولاً نازل ہوا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ معجزے کا بدل کیا ہے۔ پہلے دعوت کی صداقت معجزے کے ذریعے متحقق کی جاتی تھی، اب دعوت کی صداقت کو متحقق کرنے کا ذریعہ کیا ہے۔ یہ ذریعہ جدید سائنس ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس، قدیم معجزے کا بدل ہے۔ آج سائنس ٹھیک وہی استدلالی رول انجام دے رہی ہے، جو قدیم زمانے میں معجزات کے ذریعے انجام پاتا تھا۔
مذہب کے حق میں استدلال کے یہ دونوں دور قرآن میں واضح طور پر بتادئے گئے ہیں۔ پہلے دور استدلال کے بارے میں قرآن میں یہ آیت ہے: اِنَّا اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنَاتِ (57:25) یعنی ہم نے پیغمبروں کو اپنی صداقت کے ثبوت کے لیے معجزے دئے۔ دوسرے دور استدلال کو قرآن میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: سَنُرِيْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْآفَاقِ وَفِیْ أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں ہوا۔ آپ کے ظہور کے تقریباً ایک ہزار سال بعد جدید سائنس ظاہر ہوئی۔ جدید سائنس کا یہ ظہور محض اتفاقی نہ تھا، وہ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا ایک براہ راست نتیجہ تھا۔ پیغمبر اسلام کے لائے ہوئے انقلاب کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ اُس نے پہلی بار شرک کے غلبے کو ختم کر دیا۔ شرک کے غلبے کے خاتمے کے بعد تاریخ میں ایک نیا پر اس اس شروع ہوا۔ اس پر اس کے نقطۂ انتہا کا دوسرا نام سائنس ہے۔ شرک کیا ہے۔ شرک دراصل نیچر ور شپ (nature worship) کا دوسرا نام ہے۔ انسان نے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues