دور سائنس اور مذہب
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
قدیم زمانے میں فطرت کے مظاہر کو پرستش کا موضوع بنا دیا تھا۔ اس طرح شرک، نیچر کی تحقیق اور تسخیر کے عمل کے سلسلے میں ایک قسم کا ذہنی مانع (mental block) بن گیا تھا۔ کیوں کہ جس چیز کو آپ پرستش کا موضوع بنالیں، اُس کو عین اُسی وقت آپ تحقیق کا موضوع نہیں بنا سکتے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب کے بعد تاریخ میں ایک نیا عمل شروع ہوا۔ انسان نیچر کی تحقیق میں مصروف ہوگیا۔ یہ تحقیق مسلسل جاری رہی، یہاں تک کہ وہ دریافتیں شروع ہوئیں، جن کو سائنسی دریافتیں کہا جاتا ہے۔ فطرت کے اندر چھپے ہوئے راز معلوم واقعات بن کر سامنے آنے لگے۔ یہ عین وہی چیز تھی جس کو قرآن میں آفاق اور أنفس میں آیات کے ظہور سے تعبیر کیا گیا تھا۔ جدید سائنس دراصل نیچرل سائنس کا دوسرا نام ہے، اور یہ بلاشبہ قرآن کی پیشین گوئی کا جواب بن کر ظاہر ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو جدید سائنس قدیم طرز کے معجزات کا بدل ہے۔ جدید سائنس، دینِ حق کا علم کلام (Theology) ہے۔ جدید سائنس اُس دین کو علمِ انسانی کے معیار پر ثابت شدہ بنا رہی ہے، جس کو قدیم زمانے میں خارق عادت معجزات کے ذریعے ثابت شدہ بنایا جاتا تھا۔ واضح ہو کہ جدید سائنس کے دو پہلو ہیں۔ ایک نظریاتی سائنس (theoretical science) اور دوسرے، ٹیکنکل سائنس (technical science)۔ نظریاتی سائنس، جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے حقائق کون یا حقائق کا ئنات کو دریافت کر رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں، ٹیکنکل سائنس اس کے عملی پہلو کا نام ہے۔ ٹیکنکل سائنس کے ذریعے جدید مشینی تہذیب وجود میں آئی ہے۔ اس مقالے میں ہماری بحث ٹیکنکل سائنس سے نہیں ہے، بلکہ نظریاتی سائنس سے ہے۔ موجودہ زمانے میں نظریاتی سائنس کا ایک مشہور سائنس داں اسٹفن ہاکنگ (Stephen Hawking) ہے۔ اس موضوع پر اسٹفن ہاکنگ کی کئی کتابیں چھپ کر شائع ہو چکی ہیں۔
یہ بات ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں ملتی ہے: ما من الأنبياء نبي إلا أعطي من الآيات ما مثله آمن عليه البشر۔ وإنما كان الذى أوتيته وحيا أوحاه الله إلى۔ فأرجو أن أكون أكثر هم تابعا يوم القيامة (صحیح البخاري، رقم الحديث: 4981) نبیوں میں سے ہر نبی کو
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues