Al-Risala · February 2013 · page

دور سائنس اور مذہب

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

چند مثالیں

یہاں ہم اس نوعیت کی چند مثالیں درج کریں گے۔ ان مثالوں سے اندازہ ہوگا کہ کس طرح جدید سائنس، قدیم طرز کے معجزات کا بدل فراہم کررہی ہے۔ کس طرح اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دینی حقائق، جو پچھلے زمانے میں خارق عادت معجزات کی سطح پر پیغمبر کے معاصرین کے سامنے پیش کیے جاتے تھے، اُن کو اب خود علم انسانی کے معروف مسلمات کی بنیاد پر پیش کیا جاسکے۔ گویا کہ اب جدید علم کلام نے قدیم معجزے کی جگہ لے لی ہے۔ آج کے ایک داعی کو اپنی دعوت کے حق میں معجزہ دکھانا نہیں ہے، بلکہ اُس کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ وقت کے علمی مسلمات کی روشنی میں اپنی دعوت کو مدلل کرے۔ وہ جدید ذہین کو خود اُس معیار پر ایڈریس کر سکے جس کا اعتراف وہ پہلے سے کیے ہوئے ہے۔ 1۔ مذہب کے اعتبار سے سب سے پہلا مسئلہ وجودِ خداوندی کے اثبات کا ہے۔ اس معاملے میں علمِ انسانی میں ایک نیا ارتقائی واقعہ وجود میں آیا ہے۔ پہلے، خدا کو صرف عقیدے کا ایک مسئلہ سمجھا جاتا تھا۔ اب وہ انسانی سائنس کے دائرے کی چیز بن چکا ہے۔ یہ کہنا درست ہوگا کہ جدید سائنس نے خدا کے وجود کو ایک سائنسی دلیل کی حیثیت دے دی ہے۔

جیسا کہ معلوم ہے، سائنس کے مطالعے کا موضوع خدایا خالق کا وجود نہیں ہے۔ سائنس کا موضوع نیچر یا تخلیق (creation) کا مطالعہ ہے۔ سائنسی مطالعے کے ابتدائی دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ تمام چیزیں معلوم اسباب کے تحت وجود میں آتی ہیں، اس لیے کسی مسبب کو مطالعے کا موضوع بنانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن بعد کے سائنسی مطالعے نے اس نظریے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔ سائنس کے تفصیلی مطالعے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ نیچر یا کائنات میں ہر وقت ان گنت واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ہر واقعے میں نیچر کے سامنے بے شمار انتخاباتات (options) ہوتے ہیں، لیکن نیچر ہر موقع پر اُسی انتخاب کو لیتی ہے جو سب سے زیادہ با معنی ہو۔

اس مطالعے نے سائنس دانوں کو یہ ماننے پر مجبور کیا ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک ذہن دماغ (intelligent mind) یا ریاضیاتی دماغ (mathematical mind) ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page