ں |
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
نیچر کے پیچھے ایک برتر ذہانت کی موجودگی کو مانے بغیر اس کی توجیہہ ممکن نہی۔ اس معاملے کو ایک چیرے کے نیچے ایک برتر دہات کی موجودگی کو مانے بغیر اس کی توجیہہ ناممکن ہے۔ اس سائنس داں نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے - کائنات کا مادہ ایک ذہین مادہ ہے : The stuff of the world is mind-stuff. ۲- قدیم زمانے میں علم کی شروعات تھا کہ خدا کو پہچانا جا سکے، نیز کائنات کی تصویر حاصل کی جا سکے، 2- قديم زمانے میں یہ کہا جاتا تھا کہ خدا کو ماننے کی صورت میں اُس کو ابدی ماننا پڑتا ہے، جب کہ ہمیں اس کا براہِ راست کوئی علم نہیں۔ مگر کائنات ہمارے لیے ایک معلوم اور مشہود چیز کی حیثیت رکھتی ہے، پھر خدا کو ابدی ماننے کے بجائے کیوں نہ خود کائنات کو ابدی مان لیا جائے۔ لیکن بگ بینگ (Big Bang) کی دریافت کے بعد اس قسم کے عقیدے کو ماننا ناممکن ہوگیا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، 2006 کا فزکس نوبل پرائز دو امریکی پروفیسروں کو مشترک طور پر دیا گیا۔ یہ دونوں پروفیسر بگ بینگ کے سائنسی نظریے پر کام کر رہے تھے اور اُس پر انھوں نے ، | ں | ایک کتاب چھاپی تھی ۔ دونوں پروفیسروں کے نام یہ ہیں :
John C. Mather(60), George F. Smoot (61)
ں |
امریکا کے ادارہ ناسا نے 1989 میں ایک راکٹ بیرونی خلا میں بھیجا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ بگ بینگ دھماکے سے نکلنے والے ریڈی ایشن (Cosmic Background Radiation) وہ بت بیتا، کے آنے والے ریڈی ایشن (Background Radiation کا مطالعہ کرے اور اس کا فوٹو لے کر زمین پر بھیجے۔ اس راکٹ کا نام یہ تھا: Cosmic Background Explorer اِس تحقیق کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کا تجزیہ کرنے سے بگ بینگ کے نظریے پر مزید روشنی پڑی ہے۔ اٗس نے اِس نظریے کو اسٹرانگ سپورٹ (strong support) دی ہے، اور کائنات کی عمر کا حتمی تعیّن کردیا ہے۔ اِس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ بگ بینگ کا واقعہ 13 بلین سال پہلے ہوا۔ رپورٹ کے الفاظ یہ ہیں :
اٹھیلپ ہا پنٹ دی ایج آف دی یونیورس، اینڈ سپورٹڈ دی بگ بینگ تھیوری آف اٹس برتھ (The Times of India, October 4, 2006, p. 17).
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues