Al-Risala · February 2013 · page

ں |

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

بگ بینگ کا نظریہ ابتدائی طور پر بیسویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں دریافت ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کا آغاز ایک عظیم انفجار (explosion) سے ہوا۔ اس کے بعد اس نظریے پر کام ہوتا رہا، یہاں تک کہ اب یہ نظریہ ایک ثابت شدہ واقعہ بن چکا ہے۔

بگ بینگ کا نظریہ علم العقائد یا تھیالوجی کے اعتبار سے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ اس سے خالص انسانی علم کی سطح پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ کائنات ابدی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وقت خاص پر پیدا ہوئی۔ اس کی یہ پیدائش ایک بہت بڑے دھماکے کے ذریعے ہوئی۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ سب کچھ اتفاقی طور پر نہیں ہوسکتا۔ اس کو وقوع میں لانے کے لیے ایک خارجی عامل (external factor) درکار ہے۔ اس طرح بگ بینگ کا واقعہ اس نظریے کے حق میں ایک مضبوط منطقی سپورٹ بن گیا ہے کہ اس کائنات کو ایک پیدا کرنے والے نے پیدا کیا۔ بگ بینگ کا واقعہ معلوم ہونے کے بعد اس کی کوئی دوسری نظریاتی توجیہہ ممکن نہیں۔ 3- کائنات کی ترکیب اس طرح ہوئی ہے کہ یہاں ہر صداقت (truth) کا مادی مظاہرہ (physical demonstration) پایا جاتا ہے۔ اس طرح ایک غور کرنے والے انسان کے لیے تمام غیر مرئی صداقتیں (invisible truths) مرئی سطح (visible level) پر قابل فہم بن جاتی ہیں۔ اس قسم کی مثالوں میں سے ایک مثال وہ ہے جس کو موجودہ زمانے کی فلکیاتی اصطلاح میں بلیک ہول (Black Hole) کہا جاتا ہے۔ بلیک ہول کا نظریہ تقدیر اور تدبیر، یا انسانی آزادی اور خدائی جبر کے درمیان نازک تعلق کو قابل فہم بنا رہا ہے۔

فلکیات (astronomy) کے جرمن عالم کارل (Karl Schwarzschild) نے 1907 میں اپنے قیاس کے تحت یہ پیشین گوئی کی کہ خلا میں ایسے بڑے بڑے ستارے ہو سکتے ہیں جن کی قوتِ کشش اتنی زیادہ ہو کہ وہ اپنی روشنی کو بھی روکے ہوئے ہوں اور ان کی روشنی باہر نہ آسکتی ہو۔ چوں کہ انسان کسی چیز کو صرف روشنی کی مدد سے دیکھ سکتا ہے، اس لیے یہ عظیم ستارے خلا میں موجود ہونے کے با وجود انسان کے لیے ناقابل مشاہدہ ہیں۔ اس نظریے پر تحقیق جاری رہی، یہاں تک کہ فلکیات دانوں نے ایسے ستاروں کی امکانی موجودگی پر اتفاق کر لیا، اور ایسے ستاروں کا نام بلیک ہول رکھا گیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page