Al-Risala · February 2013 · page

ں |

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

الہیات کے میدان میں قدیم زمانے سے یہ بحث جاری ہے کہ اس دنیا میں انسان آزاد ہے، یا مجبور۔ بظاہر انسان اس دنیا میں اپنے آپ کو آزاد پاتا ہے، لیکن جب خدا قادر مطلق ہے تو یہ بات ناقابل قیاس معلوم ہوتی ہے کہ خدا کی قدرت کاملہ کے درمیان انسان کو خودمختاری حاصل ہو۔ اس تصور پر بہت زیادہ لکھا گیا ہے۔ اردو شاعر میر تقی میر (وفات: 1810) نے اسی بات کو اس طرح نظم کیا ہے: ناحق ہم مجبوروں پر، یہ تہمت ہے مختاری کی چاہے ہیں سو آپ کرے ہیں، ہم کو عبث بدنام کیا مگر یہ اعتراض ایک غیر منطقی اعتراض ہے۔ کیوں کہ خدا کو اگر ہر قسم کا اختیار حاصل ہے تو اُس کو یقیناً یہ بھی اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی مقام پر اپنی قدرت کو محدود کرلے۔ وہ کامل اختیار رکھتے ہوئے عارضی مصلحت کی بنا پر اپنے اختیار کو وقتی طور پر روک لے۔ یہ قیاس بظاہر ایک نظری قیاس ہے، لیکن بلیک ہول کی دریافت نے اس قیاس کے لیے مظاہراتی سطح پر ایک عملی تصدیق فراہم کردی۔ بلیک ہول کا نظریہ اس قیاس کو قابل فہم بنارہا ہے۔

ایمسٹرڈم (نیدرلینڈس) میں ماہرین طبیعیات (physicists) کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی ۔ اس موقع پر فزکس کا نوبل پرائز پانے والے ایک سائنس داں مسٹر جیمس واٹسنن (James Watson Cronin) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ ہماری کائنات کا 96 فی صد حصہ سیاہ مادہ (dark matter) پر مشتمل ہے۔ اُس کی روشنی یا ریڈی ایشن ہم تک نہیں پہنچتا، اس لیے ہم اُس کو براہ راست طور پر دیکھ نہیں پاتے:

Dark matter can not be detected directly, because it does not emit or reflect light or radiation. جیمس واٹس نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کائنات کو جانتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ہر چیز کے صرف 4 فی صد حصے کو جان سکتے ہیں :

We think we understand the universe, but we only understand four percent of everything. (The Times of India, September 23, 2007, p. 20)

4- قرآن خدا کی طرف سے آئی ہوئی ایک محفوظ کتاب ہے۔ قرآن کے آغاز ہی میں یہ آیت

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page