Al-Risala · February 2013 · page

امید کی طاقت

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

امید کی طاقت

ارنسٹ شیکلٹن (Ernest Shackleton) ایک برٹش مہم جو تھا۔ اُس نے قطب جنوبی (Antarctica) کی دریافت کو اپنا مشن بنایا۔ وہ تین خطرناک مہم (expeditions) کا قائد تھا۔ آخری مہم جس میں 28 آدمی شریک تھے، ایک خطرناک حادثے کا شکار ہوگئی۔ اُن کا جہاز سمندر میں کسی چٹان سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد شیکلٹن اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایسے مقام پر رہنا پڑا جہاں صرف برف کے تودے تھے، وہاں اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔ یہ ایک ہولناک تجربہ تھا جس کی تفصیل حسب ذیل کتاب میں دیکھی جاسکتی ہے: Endurance: Shackleton’s Incredible Voyage (1959) by Alfred Dansing. شیکلٹن اور اس کے ساتھی 150 دن تک خالص برف کی دنیا میں رہنے کے بعد محفوظ حالت میں اپنے وطن واپس آ گئے۔ یہ ’’معجزہ‘‘ کیسے ہوا۔ مصنف کے الفاظ میں، اُس کا راز صرف ایک تھا— پارٹی کے اندر یہ امید کہ ان کو جو صورت حال پیش آ رہی ہے، وہ صرف عارضی ہے: Underlying the optimism of the party was the confidence that their situation was only temporary. کامیابی کا یہ فارمولا ایک عمومی فارمولا ہے۔ جب بھی آپ کو کوئی مصیبت پیش آئے تو آپ صرف یہ کیجئے کہ اپنے ذہن کو یہ بتائیے کہ یہ مصیبت مستقل نہیں ہے، یہ صرف وقتی اور عارضی ہے (It is all but temporary)— اس کے بعد ہر مصیبت آپ کے لیے آسان ہو جائے گی۔ سفر ایک ایسا تجربہ ہے جو ہر ایک کو پیش آتا ہے۔

سفر میں کسی کو بھی گھر والی راحت نہیں ملتی، مگر ہر مسافر مطمئن رہتا ہے، کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ ایک عارضی مدت کے بعد وہ بہر حال اپنے گھر پہنچ جائے گا۔ یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ اپنی زندگی پر اس فارمولے کو منطبق کیجئے اور پھر کبھی آپ مایوسی کا شکار نہ ہوں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page