Al-Risala · February 2013 · page

خبر نامه اسلامی مرکز - 220

الرسالہ، فروری ۲۰۱۳

20- الہ آباد (یوپی) کے جی. جی. آئی سی گراؤنڈ (سول لائن) میں 23 نومبر سے 2 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا۔ اس میں گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا اسٹال لگایا۔ یہاں قرآن کے ہندی اور انگریزی ترجمے کی اتنی زیادہ ڈیمانڈ تھی کہ دہلی سے دوبارہ اس کو الہ آباد بھیجا گیا۔

21- جے پور (راجستھان) کے امبیڈکر سرکل گراؤنڈ میں 24 نومبر سے 2 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا۔ اس میں دعوہ فیلڈ ٹیم (سی پی ایس) کے ممبران (مسٹر تمکین قریشی اور خضر اسلام) نے ذاتی انتظام کے تحت ایک بک اسٹال لگایا۔ کافی لوگوں نے بک اسٹال پر وزٹ کرکے یہاں سے دعوتی لٹریچر حاصل کیا۔ 22- آئی ایم اے ہال (سہارن پور) میں 27 نومبر 2012 کو سوامی وویکانند کے 150 ویں یوم پیدائش کے موضوع پر ایک پروگرام ہوا۔ اس کی دعوت پر ٹیم کے ممبران نے پروگرام میں شرکت کی اور حاضرین کو دعوتی لٹریچر دیا۔ 23- جمشید پور (جھارکھنڈ) میں ٹیگور سوسائٹی کی طرف سے 23 نومبر سے 2 دسمبر 2012 کے درمیان ایک بک فیر ہوا۔ یہاں جمشید پور کی الرسالہ ٹیم کے ممبران نے ایک بک اسٹال لگایا۔ یہاں سے بڑے پیمانے پر لوگوں نے قرآن کا ترجمہ اور اسلامی لٹریچر حاصل کیا۔ زائرین کو اردو، ہندی اور انگریزی میں چھپے ہوئے دعوتی بروشر بطور گفٹ دئے گئے۔ 24- سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے ہال میں 2-1 دسمبر 2012 کو ایک اجتماع ہوا۔ یہ کشمیر دعوہ میٹ کا اجتماع تھا۔ اس میں الرسالہ مشن سے وابستہ کشمیر کے 50 لوگوں نے شرکت کی۔ یہ کشمیر کے نمائندہ افراد کا ایک اجتماع تھا۔ اس اجتماع میں علما اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ موجود تھے۔ یہ اجتماع دعوتی اور تربیتی موضوع پر تھا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کے 4 خطاب ہوئے۔ اس خطاب کا ویڈیو سی پی ایس کے ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس موقع پر کشمیری ٹیم کے متعدد لوگوں نے الرسالہ مشن سے متعلق اپنے تاثرات بیان کیے۔ یہاں اس سلسلے کے چند تاثرات نقل کیے جاتے ہیں: • آپ سب الرسالہ مشن کے ساتھی ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ صحابہ کرام نے جو اسلام رسول اللہ سے اخذ کیا ہے، اس کے صرف تین نقطے ہیں۔ ایک ہےتوحید کی اعلیٰ معرفت، دوسرا ہے فکر آخرت اور تیسرا ہے رسول اللہ کا سچا اتباع۔ یہی الرسالہ مشن کا نصب العین ہے۔ اس لئے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں ہے کہ الرسالہ مشن موجودہ دور میں رسول اور اصحاب رسول کی تبعیت میں چلنے والا واحد دعوتی مشن ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے مطابق، اس مشن کا ساتھ دیں۔ یہ ایک بے حد سنجیدہ معاملہ ہے۔ اس معاملہ میں خدا کی رضا حاصل کرنے کا کوئی تیسرا راستہ نہیں، کیوں کہ خد ا مسلمانوں کو ”شہادت علی الناس“ کے مقام پر دیکھنا چاہتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الرسالہ مسئلہ کشمیر سے انکار کرتا ہے۔ بات دراصل یہ ہے کہ لوگ جب قومی اور وطنی ذہن سے دیکھتے ہیں تو انھیں مسئلہ کشمیر نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ بحیثیت داعی حق خدا کے تخلیقی منصوبہ کی روشنی میں دیکھیں تو انھیں صرف مسئلہ آخرت دکھائی دے گا جو کہ ہر انسان کا اصل مسئلہ ہے۔ الرسالہ جیسے بے آمیز مشن کو قبول کرنا ہمیشہ انسانوں کے لئے مشکل ترین کام رہا ہے، کیوں کہ اس راہ میں ہمیشہ انسانوں کی نفس پرستی، دنیا طلبی اور شیطان کی فریب کاریاں حائل ہو جاتی ہیں۔ موجودہ دور میں الرسالہ مشن کو تاریخ میں سب سے زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، کیوں کہ اس کی زدہر خود ساختہ اور بناوٹی اسلام پر پڑتی تھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues

Printed page