خبر نامه اسلامی مرکز - 220
الرسالہ، فروری ۲۰۱۳
الرساله مشن نے اسلام پر پڑے ہوئے مصنوعی پردوں کو ہٹا کر اس کو اس کی اصل اور ابتدائی صورت میں پیش کیا۔ اس قسم کے مشن کا ساتھ دینے والے وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو زندہ فطرت والے رہاہوں، جو دلائل کی عظمت کو محسوس کرتے ہوں اور جو سچائی کی تلاش اور اس کے استقبال کے انتظار میں رہتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی تعداد ہمیشہ بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن اسی قسم کی نادر روحیں انسانیت کا حاصل ہیں۔ اُن کی قدر و قیمت خدا اور اس کے فرشتوں کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ میں آپ کی خدمت میں مولا نا وحید الدین خاں کے دو تاثرات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہم الرساله مشن کے ساتھی خود کو دیکھ سکتے ہیں۔ اپنی ڈائری میں مولانا نے ایک جگہ لکھا ہے کہ دو احساسات ہر وقت غم کا پہاڑ بن کر میرے اوپر چھائے رہتے ہیں۔ ایک دعوت دین اور اصلاح امت کی ذمہ داری، دوسرے آخرت کی جواب دہی کا مسئلہ ۔ ان دو غموں کے نیچے میری شخصیت گویا کچل کر رہ گئی ہے۔ کتنا جینے کی ضرورت ہے اور حال یہ ہے کہ ایک لمحہ بھی جینے کی طاقت نہیں۔ اسی طرح آخرت کی دنیا میں لازمی طور پر داخل ہونا ہے اور آخرت کی دنیا میں داخل ہونے کی ذرا بھی ہمت نہیں‘۔ اسی طرح اپریل 2000 میں سہارن پور کے ایک سفر کے دوران ایک صاحب نے مولانا سے کہا کہ میں آپ کی تحریریں برابر پڑھتا ہوں اور ان کو پسند کرتا ہوں، مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے بعد کون؟ مولانا نے جواب میں کہا کہ اکثر لوگ اس طرح کے سوال کرتے ہیں، مگر میں تو یہ سوچتا ہوں کہ میری موجودگی میں کون؟ میری دعوتی جدوجہد تقریبا پچاس سال کی مدت تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس راہ میں، میں نے اپنا خون خشک کیا، میری شخصیت ویران ہو گئی، میرے دن اور رات کا سکون چھن گیا، مگر اب بھی ہر طرف وہی حال نظر آتا ہے جس کی مثال انجیل میں ان الفاظ میں دی گئی ہے کہ ــ ہم نے بانسری بجائی، مگر تم نے رقص نہیں کیا، ہم نے ماتم کیا، مگر تم نہیں روئے۔
محترم ساتھیو، الرساله کا دعوتی مشن ہماری صلاحیتوں اور اثاثوں کا بہترین مصرف ہے۔ اسی سے ہم اپنے خالق کی رضا اور خوشنودی حاصل کرسکتے ہیں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں من أنصاري إلى الله کے جواب میں نحن أنصار الله کہنے کی سچی توفیق عطا فرمائے۔ (نذیر الاسلام، پلوامہ، کشمیر) • مولانا محترم بنا تعارف آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی توفیق براہ راست اللہ تعالیٰ نے نصیب فرمائی۔ اس سعادت کے لیے اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کروں، وہ کم ہے۔ بندہ تقریبا 35 سال سے حصولِ معرفت الہی کے لیے متجسس تھا۔ اس کے لیے بے شمار کتب کا مطالعہ کیا لیکن تسکین قلب حاصل نہ ہوئی۔ اس تلاش میں میں ناکام رہا اور امید چھوڑ بیٹھا، لیکن قلب میں تڑپ موجود تھی۔ آخر کار اللہ نے مجھ پر رحم فرما دیا اور مورخہ 30 مارچ 2012 بروز جمعہ جب میں نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے رام بن بازار (کشمیر) کے قریب کے راستے سے گزر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ اُس راستے میں دور تک کچھ چھپے ہوئے ورق کے پھٹے ہوئے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بکھرے ہوئے ہیں اور لوگ اُن کے اوپر سے چل رہے ہیں۔ جب میں قریب پہنچا تو ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر God لکھا ہوا میں نے پڑھا۔ میں بیٹھ گیا اور اپنے رب کے نام کے ساتھ شامل عبارت کے ورق کو پھاڑ کر پھینکنے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے میں نے ان تمام چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو اکٹھا کر کے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ بعد فراغت نماز جمعہ، اپنے گھر جا کر میں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2013 All issues