Al-Risala · March 2014 · page 66

شوریٰ یا جمہوریت کا اصول

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۶۶

اس کے اندر نظمِ اجتماعی قائم کرنے کی دو صورتیں ہیں—ایک یہ کہ ایک شخص کو حاکم مطلق کی حیثیت حاصل ہو اور وہ سب کے اوپر اپنی مرضی نافذ کرے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مجموعے کے ہر فرد کو اپنی رائے دینے کا موقع دیا جائے اور پھر یا تو اتفاق عام یا کثرت رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ پہلے طریقے کو آمریت (dictatorship) کہا جاتا ہے اور دوسرے طریقے کو جمہوریت (democracy)۔ اسلام میں شوریٰ کا اصول عملاً وہی ہے جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت کہا جاتا ہے۔ شوریٰ یا جمہوریت کا یہ اصول شرعی عقیدے کا مسئلہ نہیں ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے، یہ فطرت کے ایک اصول پر مبنی ہے۔ خالق نے مصلحتِ امتحان کے تحت ہر عورت اور مرد کو کامل آزادی عطا کی ہے، یہ آزادی قیامت سے پہلے منسوخ ہونے والی نہیں۔ ایسی حالت میں نظمِ اجتماعی (socio-political system) کو کس بنیاد پر قائم کیا جائے۔ اگر نظمِ اجتماعی کے لیے ایک معیاری اصول مقرر کر دیا جائے اور یہ مطلوب ہو کہ پورے انسانی مجموعے کو اسی معیاری اصول کے تابع بنانا ہے۔ ایسی حالت میں لازماً یہ ہوگا کہ ابدی طور پر لوگوں کے درمیان ٹکراؤ کی حالت جاری رہے گی۔ کچھ لوگ اس معیاری اصول کو مانیں گے اور کچھ لوگ اپنے چوائس (choice) کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف ہو جائیں گے۔ اس طرح سماج مستقل طور پر دو متحارب گروہ میں تقسیم قائم ہوجائے گا، اُن کے درمیان ایسی لڑائی جاری ہو جائے گی جو کبھی ختم نہ ہو۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب (choice) ہے—ایک، معیاری اجتماعی اصول پر اصرار کرنا، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ معیاری اجتماعی اصول تو عملاً کبھی قائم نہ ہو اور نتیجةً انسانی معاشرہ، ہمیشہ کے لیے امن (peace) سے محروم ہو جائے۔ اس معاملے میں دوسرا انتخاب یہ ہے کہ نظمِ اجتماعی کے لیے کوئی مطلوب اصول نہ ہو، بلکہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے اصول پر یہ کیا جائے کہ اجتماعی نظم کے معاملے میں رائے عامہ کو عملاً تسلیم کر لیا جائے ۔ اس طرح سماج میں فوری طور پر امن ہو جائے گا اور ہر فرد کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے انفرادی دائرے میں تعمیر و ترقی کا جو منصوبہ چاہے، اس کو بروئے کار لاسکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page