شوریٰ یا جمہوریت کا اصول
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۶۷
فطرت کے اس اصول کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کما تکونون، كذلك يُؤَمَّر علیکم (البيهقي، شعب الإيمان: 22/6) یعنی جیسے تم لوگ ہوگے، ویسے ہی تمھارے حکمراں ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی انتظام (political administration) مطلق معنوں میں کسی اصول کے تابع نہیں ہوگا، بلکہ معاشرے کی رائے عامہ کے مطابق، اس کا تعین کیا جائے گا۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں حکومت کے معاملے کو کسی مطلق معیار (political idealism) کے تابع نہیں کیا گیا، بلکہ وہ عملی طریقہ اختیار کیا گیا ہے جس کو سیاسی بندوبست (political adjustment) کا طریقہ کہا جا سکتا ہے۔
فطرت کا نظام
قرآن کی سورہ الفرقان اس آیت سے شروع ہوتی ہے: تَبٰرَکَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِيرًا (25:1) یعنی بڑا بابرکت ہے اللہ جس نے فرقان (قرآن) اتارا، تا کہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا بنے۔
اس آیت کے مطابق، قرآن ایک کتابِ فرقان ہے، یعنی فرق کرنے والی کتاب۔ فرقان فرق کا مبالغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے: الفصل بين الشيئين (دو چیزوں کے درمیان فرق کرنا)۔ یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ موجودہ دنیا میں امتحان کی مصلحت کی بنا پر تمام چیزیں غیرممیّزحالت میں پائی جاتی ہیں۔ انسان کی یہ لازمی ضرورت ہے کہ وہ ان چیزوں کو درست طور پر سارٹ آؤٹ (sort out) کر سکے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انسان فکری اعتبار سے، کنفیوژن (confusion) کا شکار ہو جائے گا اور عملی اعتبار سے وہ اپنے کاموں کی نتیجہ خیز پلاننگ نہ کر سکے گا۔ اس اصول کو دوسرے الفاظ میں فطرت کا نظام کہا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی کامیابی صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ فطرت کے اس نظام کو ملحوظ رکھتے ہوئے زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ انسان بظاہر وسیع کائنات کا ایک حصہ ہے، لیکن انسان کی ایک ممیز صفت ہے جو بقیہ کائنات میں موجود نہیں، وہ یہ کہ انسان کی زندگی بیک وقت دو مختلف تقاضوں کا مجموعہ
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues