Al-Risala · March 2014 · page 68

شوریٰ یا جمہوریت کا اصول

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۶۸

ہوتی ہے فرد (individual) اور اجتماع (society) ۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ فرداور اجتماع کے تقاضے مشترک ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف ہیں، بلکہ بعض اوقات ایک دوسرے سے متضاد ہیں، حتی کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کی زندگی گویا ایک قسم کا مجموعہ اضداد (mixture of opposites) کی حیثیت رکھتی ہے۔

بقیہ کائنات کا معاملہ اس سے مختلف ہے، بقیہ کائنات میں یہ تقسیم موجود نہیں۔ بقیہ کائنات کا معاملہ یہ ہے کہ جو ایک درخت کا کیس ہے، وہی پورے باغ کا کیس ہے، جو ایک قطرہ آب کا کیس ہے، وہی پورے سمندر کا کیس ہے، جو ایک ستارے کا کیس ہے، وہی پوری کہکشاں کا کیس بھی ہے۔ بقیہ کائنات میں واحدہ (unit) اور مجموعہ دونوں کا کیس یکساں ہے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسانی زندگی کی منصوبہ بندی میں اس فرق یا اختلاف کو ملحوظ رکھنے کا نام کامیابی ہے اور اس فرق یا اختلاف کو ملحوظ نہ رکھنے کا نام ناکامی۔ تاریخ کی تصویر تاریخ میں جو سوچنے والے لوگ (thinkers) گزرے ہیں، اُن میں سے تقریباً ہر ایک کا یہ حال ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی سوچ کے مطابق، ایک عظیم فکری نشانہ (great vision) کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ لیکن ساری کوشش کے بعد آخر میں وہ اپنے نشانہ (goal) کو حاصل کرنے کے بارے میں ناامید ہوگئے۔ اور جب وہ دنیا سے گئے تو وہ مایوسی (despair) کا کیس بن چکے تھے۔ ارسطو (Aristotle) سے لے کر برٹرینڈ رسل تک کتنے لوگ ہیں جنھوں نے آئیڈیل گورنمنٹ کے قیام کو اپنا نشانہ بنایا، لیکن ساری کوشش کے باوجود وہ عملاً آئیڈیل گورنمنٹ نہ بنا سکے۔ لیوٹالسٹاے (Leo Tolstoy) سے لے کر مہاتما گاندھی تک کتنے لوگ ہیں، جنھوں نے پرامن دنیا (peaceful world) بنانے کا خواب دیکھا، لیکن اُن کا خواب کبھی عملی واقعہ نہ بن سکا، یہاں تک کہ ناکامی کے احساس کے ساتھ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔

سید قطب سے لے کر ڈاکٹر محمد مرسی (مصر) تک کتنے لوگ ہیں جنھوں نے اپنا یہ مشن بنایا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page