شوریٰ یا جمہوریت کا اصول
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۶۹
ان کو دنیا میں انصاف (justice) پر مبنی نظام قائم کرنا ہے، مگر اُن کا آخری احساس یہ تھا کہ ساری کوشش کے باوجود دنیا میں وہ اپنا مطلوب نظام قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اُن سب کا حال وہی ہوا جو رابندر ناتھ ٹیگور نے تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا تھا— ساری عمر بینا (ستار) کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی، مگر جو انتم گیت میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گا سکا۔ منصوبہ تخلیق یہ پوری تاریخ کا ایک عظیم فکری المیہ (intellectual tragedy) ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے — زندگی کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبہ سے بے خبر ہونا اور خود ساختہ ذہن (self-styled mindset) کے تحت منصوبہ بنا کر اس کو ایک ایسی دنیا میں بروئے کار لانے کی کوشش کرنا جو اس کے مطابق، بنائی نہیں گئی تھی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا (17:84) یعنی ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے۔ اب تمھارا رب بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر ہے۔ قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خالق کا منصوبہ اشیا(scheme of things) ہی صحیح تخلیقی منصوبہ ہے۔ اْس کا اتباع کر کے دنیا میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ خالق کے منصوبے کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ صرف اپنے فکری شاکلہ (mindset) کو جانتے ہیں اور اُسی کے مطابق عمل شروع کر دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ اپنے کاگ (cog) کو خالق کے کاگ سے نہیں ملاتے۔ اس بنا پر اُن کا منصوبہ غیر حقیقت پسندانہ بن جاتا ہے۔ اس معاملے میں لوگوں کی عمومی ناکامی کا اصل سبب یہی ہے۔
اس سلسلے میں ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ خالق نے انسان کو مصلحت امتحان کی بنا پر مکمل آزادی (total freedom) عطا کیا ہے۔ ہر انسان کو کلی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اس تخلیقی نقشے کی بنا پر عملاً یہ بات ناممکن ہو گئی ہے کہ اس دنیا میں عوام (masses) کی سطح پر کوئی آڈیئل نظام بنایا جا سکے۔ کیوں کہ کچھ لوگ اگر اُس سے اتفاق کریں گے تو
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues