Al-Risala · March 2014 · page 70

شوریٰ یا جمہوریت کا اصول

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۷۰

کچھ لوگ اپنے اختیار کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف ہو جائیں گے اور پھر وہ مجوزہ اجتماعی اسکیم کو درہم برہم کر دیں گے۔ تاریخ میں بار بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں، جب کہ ایک شخص یا چند اشخاص نے بڑی بڑی اسکیموں کا خاتمہ کر دیا۔

خالق کے اس نقشے کی بنا پر حقیقت پسندانہ رویہ یہ ہے کہ آدمی اس سے مطابقت کرتے ہوئے اپنا نقشہ بنائے۔ ہر انسان کو پیشگی طور پر یہ جاننا چاہیے کہ اس کا منصوبہ صرف اُس وقت کامیاب ہو سکتا ہے، جب کہ وہ خالق کے نقشے کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتا ہو۔ خالق کے نقشے سے ادنی انحراف بھی یقینی طور پر اس کے منصوبے کو نا کام بنا دے گا، خواہ بطور خود وہ اس کو کتنا ہی زیادہ اچھا سمجھتا ہو۔ انفرادی معیار پسندی، اجتماعی عملیت اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو موجودہ دنیا میں قابلِ عمل منصوبے کا اصول صرف ایک ہے، اور وہ ہے فرد (individual) اور اجتماع (society) کو ایک دوسرے سے الگ کر کے منصوبہ بنانا۔ فرد کے تقاضے اور اجتماع کے تقاضے کے درمیان فرق کی رعایت کرتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنانا یہی فطری طریقہ ہے۔ اس فطری طریقے کا اصول مختصر طور پر یہ ہے: 1۔ فرد کے لیے نظری معیار (individual idealism)

2۔ اجتماع کے لیے عملی امکان (social pragmatism)

فرد کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں عامل اور معمول دونوں ایک ہوتے ہیں۔ فرد کے کیس میں ایک آدمی خود معیار مقرر کرتا ہے اور خود اس کے اپنے اختیار میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اس معیار کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ اس لیے فرد کے کیس میں کسی معیارِ عمل کی صورت دینا پوری طرح ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ کے یہاں لوگوں کا درجہ فرد کی نسبت سے متعین ہوگا، نہ کہ مجموعہ کی نسبت سے۔

ہر فرد کو چاہیے کہ وہ جس اصول کو درست سمجھتا ہے، اس کو وہ اپنی ذاتی زندگی میں پوری طرح اختیار کرے۔ وہ اس معاملے میں کسی سے سمجھوتہ (compromise) نہ کرے۔ یہی وہ اصول ہے

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page