Al-Risala · March 2014 · page 71

مذہب اور سیاست

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۷۱

جس کو ہم نے انفرادی معر پسندی (individual idealism) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اس کے بعد جہاں تک اجتماع یا انسانی مجموعہ کا تعلق ہے، اس کے معاملے میں قانون فطرت کے مطابق، جو چیز قابلِ عمل ہے، وہ صرف یہ ہے کہ ممکن الحصول اور ناممکن الحصول کے درمیان فرق کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنانا، یعنی ذاتی ماڈل کو چھوڑ کر عملی ماڈل اختیار کرنا، اجتماع کے درجہ قبولیت (level of acceptance) کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ یہی وہ عملی حقیقت (practical wisdom) ہے جس کو ہم نے اجتماعی عملیت (social pragmatism) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔

تاریخ میں جو مفکرین عملاً ناکام ہو گئے، اُن کی نا کامی کا مشترک سبب یہی ہے کہ انھوں نے ذاتی سوچ کے تحت اپنے ذہن میں اجتماع کا ایک خوب صورت ماڈل بنایا یا اور پھر اس کو وقوع میں لانے کے لیے پُر شور تحریکیں شروع کر دیں۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کا تصوراتی ماڈل حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر بکھر گیا۔ معیار (ideal) مجموعے کی سطح پر نا قابلِ حصول ہے، لیکن فرد (individual) کی سطح پر بلا شبہ وہ قابلِ حصول ہے۔

مذہب اور سیاست

فرد اور اجتماع کے درمیان اسی فرق کی بنا پر اسلام میں مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا ۔ مذہب کا نشانہ ذاتی ارتقا (personal development) ہے، یعنی ربانی بنیادوں پر فرد کی تعمیر ۔ اس اعتبار سے، مذہب اُس دائرے کی چیز ہے جس کے لیے ہم نے انفرادی معیار پسندی (individual idealism) کا لفظ استعمال کیا ہے۔

اس کے برعکس، سیاسی اقتدار کا معاملہ پورے انسانی مجموعے سے تعلق رکھتا ہے اور قانون فطرت کے مطابق، پورے انسانی مجموعے کو ایک معیار پر ڈھالا نہیں جا سکتا۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کے معاملے کو اُس دائرے کی چیز قرار دیا جائے جس کے لیے ہم نے اجتماعی عملیت (social pragmatism) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page