اسلام کا اصل نشانہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۷۲
مذہب اور سیاست کے درمیان تفریق اسی عملی اصول (practical wisdom) کی بنا پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرد کو معیاری اصول پر قائم ہونے کی تاکید کی جائے، لیکن ذاتی اقتدار کے معاملے میں اُس اصول کو اختیار کر لیا جائے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : کما تکونون كذلك يؤمر عليكم (البيهقي، رقم الحديث : 7391) یعنی تم جیسے ہوگے، ویسے تمھارے حکمراں ہوں گے ۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ سیاسی اقتدار کے معاملے میں سماجی قبولیت (social acceptability) کو دیکھا جائے، نہ کہ کسی مطلق معیار کو (absolute ideal)۔
یہ فطرت کا اصول ہے۔ اس اصول کی بنیاد پر زندگی کی تشکیل کی جائے تو سماج میں ہمیشہ امن قائم رہے گا، کیوں کہ امن کی حالت ہر قسم کی ترقی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس کے برعکس، اگر فطرت کے اس اصول کو نظر انداز کر دیا جائے اور فرد اور مجموعہ کو ایک ہی نظام کا پابند بنانے کی کوشش کی جائے تو ابدی طور پر امن کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد سماج میں نفرت اور ٹکراؤ اور تشدد جیسی برائیاں جنم لیں گی جو کبھی ختم نہ ہوں گی۔
اسلام کا اصل نشانہ
ہر نظام میں ایسا ہے کہ کچھ چیزیں اس نظام کا اصل حصہ (real part) ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں وہ ہیں جو اس نظام کا اضافی حصہ (relative part) ہوتی ہے۔ اسلام میں خارجی اعتبار سے، اصل نشانے کی حیثیت صرف ایک چیز کو حاصل ہے، اور وہ دعوت یا شہادت ہے۔ اس کے سوا جو خارجی چیزیں ہیں ، اُن کی حیثیت اسلام کے اضافی حصہ (relative part) کی ہے۔ اسلام کو عقلی طور پر سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو جاننا بہت ضروری ہے۔ اس حقیقت کو جانے بغیر اسلام کی جو توجیہہ کی جائے گی، وہ کبھی درست نہیں ہو سکتی۔
شہادت عظمیٰ
اسلام کا نشانہ اقامت نظام نہیں ہے، بلکہ دعوت الی اللہ ہے، یعنی تمام انسانوں کو اللہ کا پیغام
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues