ایک سبق آموز واقعہ
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۴۰
ایک سبق آموز واقعہ
ہمارے دعوتی مشن کے ایک ساتھی اپنے گھر سے نکلے۔ ان کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا۔ اس بیگ میں اسلامی لٹریچر تھا جس کو وہ لوگوں تک پہنچانا چاہتے تھے۔ راستے میں ایک مقام پر ایک فوجی افسر نے اُن کو روکا۔ اس نے پوچھا کہ اس بیگ میں کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں کتابیں ہیں۔ فوجی افسر نے بیگ کھول کر اس کو چیک کیا۔ ہمارے ساتھی نے اس میں سے دو کتابیں مذکورہ فوجی افسر کو دیں— ریلیٹی آف لائف (The Reality of Life) اور ”ستیے کی کھوج“۔ ہمارے ساتھی نے فوجی افسر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ انسان کی باڈی کو قتل (kill) کرتے ہیں، ہم انسان کے اندر چھپی ہوئی بری سوچ (evil thought) کو قتل کرتے ہیں۔ فوجی افسر نے بڑے دھیان سے ہمارے ساتھی کی باتیں سنیں۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے یہ کہہ کر ہمارے ساتھی کو رخصت کیا— مجھے آپ کے اوپر فخر ہے:
I am proud of you!
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کوئی دشمن دشمن نہیں۔ ہر وہ انسان جس کو آپ بظاہر اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں، اس کے اندر آپ کا ایک دوست انسان چھپا ہوا ہوتا ہے۔ عقل مندی یہ ہے کہ ظاہری دشمن کو نظر انداز کر کے اُس کے اندر چھپے ہوئے داخلی دوست کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر دشمن آپ کا امکانی دوست (potential friend) ہے۔ اس امکان کو واقعہ بنانے کی کوشش کیجیے اور پھر آپ کے لیے دشمن اور دوست کا فرق مٹ جائے گا۔ ہر انسان آپ کا دوست انسان بن جائے گا۔ فطرت کا یہی راز ہے جس کو قرآن کی ایک آیت میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ”اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت دار۔ اور یہ بات صرف اُسی کو ملتی ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔ اور یہ بات صرف اُسی کو ملتی ہے جو بڑا نصیب والا ہے۔ (34-41:36)
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues