برتر حساسیت
الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۴۱
برتر حساسیت
نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ بعض افراد کی حساسیت (sensitivity) بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی ہے۔ علماءِ نفسیات (psychologists) کے مطابق، یہ ایک پیدائشی صفت ہے جو بعض افراد میں خصوصی طور پر موجود ہوتی ہے۔ جن افراد کے اندر بڑھی ہوئی حساسیت کی یہ صفت پائی جائے، وہ علم وفکر کی دنیا میں بڑے بڑے کام انجام دیتے ہیں۔ یہ نفسیات کا ایک مستقل موضوع ہے۔ اس موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب یہ ہے:
Elaine N. Aron, The Highly Sensitive Person, pp. 251, 1997 کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ۔ زیادہ حساس لوگ پیدائشی طور پر زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔ ان کے اندر وجدان اور تخئیل اور تخلیقیت کی صلاحیت زیادہ پائی جاتی ہے۔ زیادہ حساس انسان کے اندر یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ ایک بات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ اخذ کر سکے:
They are gifted with great intelligence, intuition, imagination and creativity. A highly sensitive person can grasp a point with greater intensity. وہ چیز جس کو دین میں تقویٰ کہا جاتا ہے، اُس کی اصل حقیقت بھی یہی ہے۔ تقویٰ کا مادہ 'وقی ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے: فرس واق (بچ بچ کر چلنے والا گھوڑا)۔ گھوڑے کی سم میں اگر کوئی زخم ہو جائے تو وہ بہت زیادہ بچ بچ کر چلتا ہے۔ ایسے حساس گھوڑے کو فرس واق کہا جاتا ہے۔ یہی متقی انسان کا معاملہ ہے۔ متقی انسان وہ ہے جو خدائی معاملات میں بہت زیادہ حساس ہو گیا ہو۔ یہ حساسیت متقی انسان کے اندر وہی اعلیٰ صفتیں پیدا کرتی ہے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اِسی حساسیت کا ایک ظاہرہ وہ ہے جس کو قرآن میں فرقان (8:28) کہا گیا ہے، یعنی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا۔ ایسا آدمی اِس قابل ہوتا ہے کہ وہ صحیح اور غلط کے فرق کو فوراً پہچان لے، وہ باطل کو الگ کرکے حق کو دیکھ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues