Al-Risala · March 2014 · page 43

ایک اور موقع

الرسالہ، مارچ ۲۰۱۴، صفحہ ۴۳

سوال و جواب سوال دو سوالات کے جواب مطلوب ہیں۔ براہ کرم، اس کی وضاحت فرمائیں:

1۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے الرساله مشن کا اعتراف کیا اور یہ بتایا کہ الرساله مشن کا مثبت کنٹری بیوشن (positive contribution) کیا ہے۔ ان کے نزدیک، الرساله مشن کے اس کنٹری بیوشن کے تین پہلو ہیں:

تصوف کے مقابلے میں، تزکیہ و تعلق باللہ کا صحیح تصور پیش کرنا۔

اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation) کی غلطی کی نشان دہی کرنا اور اس کے مقابلے میں اسلام کی دعوتی تعبیر پیش کرنا۔

مسلمانوں کو درپیش مسائل کے اعتبار سے، اُن کو تعمیری رہنمائی دینا۔

2۔ دسمبر 2013 کی 27 تاریخ کو دہلی میں دو اعلی تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ الرساله مشن کے تحت جو ٹیم بنی ہے، اُس کے افراد اپنے اندر بلا شبہہ مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ ٹیم کے یہ ممبران بے لوث انداز میں ہر جگہ الرسالہ کے لٹریچر کی اشاعت کر رہے ہیں۔ تاہم ٹیم کے یہ افراد عام طور پر مشن کے لیے مخلص ایکٹو سٹ (sincere activists) یا مخلص ورکر (sincere workers) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز کو چاہیے کہ وہ اپنے مشن کے تحت کچھ ایسے افراد بھی تیار کریں جو قرآن وسنت اور اسلامی مصادر و مآخذ کا گہراعلم رکھتے ہوں، تاکہ وہ الرسالہ کی علمی روایت کو آگے بڑھا سکیں۔ (ایک قاری الرسالہ، نئی دہلی) جواب 1۔ الرساله مشن کا کنٹری بیوشن بتانے کے لیے یہ تینوں باتیں بلاشبہہ درست ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ الرسالہ مشن کا جو اصل کنٹری بیوشن ہے، اس کے اعتبار سے، یہ تینوں چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ الرسالہ مشن کا اصل کنٹری بیوشن ہے— نئے دور میں اسلام کی از سرنو دریافت

‹ Previous page Next page › Contents of March 2014 All issues

Printed page